بغداد:نامزدوزیراعظم کے خلاف احتجاج؛پولیس نے مظاہرین کوگرین زون سےپیچھےدھکیل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق میں ایران نوازسیاست دان کی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر نامزدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور بلوہ پولیس نے بدھ کے روزبغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون سے مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کے لیے پانی توپ کا استعمال کیا ہے۔

عراق میں گذشتہ سال اکتوبرمیں منعقدہ وفاقی انتخابات کے بعد سے سیاسی تعطل جاری ہے اور ابھی تک نئی حکومت تشکیل نہیں پاسکی لیکن ایران نواز جماعتوں نے محمد شاع السودانی کو وزیراعظم نامزد کیا ہے مگر دوسری جماعتوں کے حامیوں نے انھیں مسترد کردیا ہے اور ان کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ ملک میں جاری سیاسی تعطل اور ان کی نامزدگی کے خلاف بغداد میں اب تک کا یہ سب سے بڑا احتجاج ہے۔

مظاہرین ایران کے حمایت یافتہ سیاسی گروپوں کی حکومت کی تشکیل کے لیے کوشش کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔انھوں نے شیعہ جماعتوں اوران کے اتحادیوں کی قیادت میں اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک بلاک کے نامزد امیدوارمحمد السودانی کے انتخاب کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

عراقی پولیس کی بھاری نفری گرین زون کے مرکزی دروازوں تعینات کی گئی تھی جبکہ مظاہرین نے گرین زون کے دو داخلی راستوں کے ارد گرد جمع ہوکردھاوا بولنے کی کوشش کی اوربعض نے سیمنٹ کی دیوار پر چڑھ کر محمدالسودانی کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین میں بڑی تعداد بااثرشیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے پیروکارکی تھی۔ انھوں نے اکتوبر میں منعقدہ وفاقی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں لیکن انھوں نے اس کے باوجود سیاسی عمل سے دستبرداری اختیارکرلی ہے۔مظاہرین نے مقتدیٰ الصدرکی تصاویراٹھا رکھی تھیں۔

السودانی کا انتخاب ایک سیاسی اتحاد ’ریاستی قانون‘ کے رہ نما اورسابق وزیراعظم نوری المالکی نے کیا ہے لیکن السودانی کی پارلیمان سے بہ طور وزیراعظم منظوری سے قبل سیاسی جماعتوں کوعراق کے نئے صدر کے انتخاب پر متفق ہونا ہوگا اور پارلیمان پہلے صدر اور نائب صدور کا انتخاب کرے گی۔

واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر ملک کے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے قانون سازوں کی درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور اس کے بعد انھوں نے حکومت سازی کے مذاکرات سے ہی دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

اب ان کے قانون سازوں کی جگہ فریم ورک اتحاد کے رہ نما نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے محمدالسودانی کو آگے بڑھایا ہے لیکن بہت سے تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اس سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوگا کیونکہ مقتدیٰ الصدرکوعوامی سطح پرکافی حمایت حاصل ہے اوران کے حامیوں کے مظاہروں سے جنگ زدہ عراق ایک مرتبہ پھرعدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں