مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا، دھرنا جاری
پرتشدد واقعات میں ساٹھ افراد زخمی، پولیس کو طاقت کے استعمال سے گریز کی ہدایت
آج ہفتے کے روز عراق کی الصدر تحریک کے حامیوں کی بڑی تعداد نے پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بول دلا اور گرین زون کے اندر داخل ہونے کے بعد وہاں پر دھرنا شروع کردیا ہے۔
صدری تحریک کے سربراہ مقتدیٰ الصدر اپنے حامیوں کو پارلیمنٹ کے اندر کھلے عام دھرنے کی کال دی جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے عراقی پارلیمنٹ کی حفاظتی فورس کو مظاہرین پر حملہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مراسل العربية: المتظاهرون يقتحمون مبنى البرلمان العراقي
— العربية (@AlArabiya) July 30, 2022
#العربية pic.twitter.com/lgdXtCgcuK
الصدر کے حامیوں نے آج بغداد کے گرین زون میں وزیر اعظم کے گیسٹ ہاؤس، فیڈرل کورٹ کی عمارت اور سپریم جوڈیشل کونسل کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا جب کہ الصدر تحریک کے ایک رہ نما نے جوڈیشل کونسل کے سامنے پرامن مظاہرے پر زور دیا۔
مصادر عراقية متطابقة: المتظاهرون يقتحمون مبنى البرلمان
— العربية (@AlArabiya) July 30, 2022
#العربية pic.twitter.com/ylrrFas73I
’العربیہ’ اور ’الحدث‘ کے نامہ نگار نے مظاہروں کے ساتھ مل کر گرین زون کے اندر اسپیشل فورسز کے دستے کی سخت حفاظتی تعیناتی کی اطلاع دی ہے، جب کہ سکیورٹی فورسز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ الصدر کے وفادار مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں۔
بدء تدفق أنصار التيار الصدري إلى وسط بغداد للتظاهر #العربية pic.twitter.com/3eoaRsfCAk
— العربية (@AlArabiya) July 30, 2022
سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو گرین زون میں گھسنے سے روکنے کے لیے پانی کی توپوں، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اشک آور گیس کی شیلنگ سے متعدد افراد دم گھٹنے سے بے ہوش ہوگئے۔ کچھ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ طبی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں کم سے کم ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
نحمل أصدق التبريكات لجميع العراقيين، والعالم الإسلامي ببداية العام الهجري بما تحتوي من رسالة للإنسانية انطوت على قيم التسامح والسلام للبشرية.
— Mustafa Al-Kadhimi مصطفى الكاظمي (@MAKadhimi) July 29, 2022
وفي بداية شهر محرم الحرام نذكّر الجميع بقدسية الشهر، وندعو إلى التحلي بالحكمة مبتهلين إلى الله أن يديم علينا نعمة المحبة والاستقرار.
عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے عراقی سکیورٹی کو مظاہرین کی حفاظت کے لیے ہدایات جاری کی ہیں اور مظاہرین سے "اپنی تحریک کے پرامن طریقے پر قائم رہنے اورتشدد سے گریز پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے۔
— محمد الحلبوسي (@AlHaLboosii) July 29, 2022
درایں اثنا الصدر کی تحریک کے ایک رہ نما نے مظاہرین پر کسی بھی حملے کا ذمہ دار سیاسی گروپوں کو ٹھہرایا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "عراقی سکیورٹی فورسز اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں۔
زیادہ تر مظاہرین نے عراقی جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جب کہ دیگر نے مقتدیٰ الصدر کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔ مظاہرین کو مقتدیٰ الصدر کی حمایت میں نعرے لگاتے بھی سنا گیا ہے۔
مظاہرین نے وزارت عظمیٰ کے لیے محمد شیاع سوڈانی کے نام کو مسترد کرنے کے عزم کی بھی تجدید کی ہے۔
-
ایران سازش کے تحت عراق میں سیاسی بحران پیدا کررہا ہے: برطانوی رپورٹ
ایک برطانوی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بحرانوں اور سیاسی تنازعات سے تھک جانے ...
بين الاقوامى -
سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا نجی ملیشیا کےہمراہ مسلح گشت
عراق میں سابق وزیراعظم نوری المالکی ایک نئی متنازع ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہیں ...
مشرق وسطی -
عراق کے کرد علاقے میں راکٹ حملہ۔ ہدف گیس کمپلیکس کو بنایا گیا
عراق کے کرد عمل داری کے علاقے میں تین کاتیوشا راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ راکٹ حملے ...
مشرق وسطی