.
ایرانی ملیشیا

ارجنٹائن سے ایران سے منسلک وینزویلا کے طیارے کو قبضے میں لینے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ انصاف نے بُدھ کو ایک بیان میں کہا ہےکہ اس نے ایک ایرانی ہوائی جہاز کوقبضے میں لینے کی اجازت کی درخواست کی تھی جسے وینزویلا میں مالکان کو فروخت کیا گیا تھا اور اسے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں سے تعلق کے شبے میں ارجنٹینا میں رکھا گیا تھا۔

8 جون کو طیارے کی ارجنٹائن میں غیر اعلانیہ آمد نے ارجنٹائن کی حکومت کے اندر ایران، وینزویلا اور امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تشویش کو جنم دیا۔

محکمہ انصاف نے کہا کہ ضبطی کی درخواست ڈسٹرکٹ کورٹ میں 19 جولائی کو ڈسٹرکٹ کورٹ آف کولمبیا میں طیارے کو ضبط کرنے کے وارنٹ کے انکشاف کے بعد کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ برآمدی کنٹرول کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر طیارے کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ طیارہ جو کہ امریکی ساختہ بوئنگ 747-300 ہے پابندیوں کی زد میں ہے کیونکہ ایران کی ماہان ایئر نے اسے امریکی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گذشتہ سال امتراسور کو فروخت کیا تھا۔ دونوں کمپنیاں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعاون پر امریکی پابندیوں کی فہرست میں ہیں۔

قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میتھیو اولسن نے ایک بیان میں کہا کہ "محکمہ انصاف ایسے لین دین کو برداشت نہیں کرے گا جو ہماری پابندیوں اور برآمدی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔"

ماہان ایئر کو ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے تعلقات کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا ہے، جسے امریکا دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

جب جہاز بیونس آئرس پہنچا تو اس میں 14 وینزویلی باشندے اور پانچ ایرانی سوار تھے، جن میں سے سات اب بھی ارجنٹائن میں زیر حراست ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں