سلطنت عمان سے تعلق رکھنے والی جسمانی طور پرجڑی بچیاں صفا اور مروہ پندرہ سال قبل ہی جسم کےساتھ تھیں مگرسعودی عرب میں ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کامیاب سرجری کی گئی۔ آج اس آپریشن کو پندرہ سال ہوچکے ہیں۔
صفا اور مروہ نے شاہ سلمان ہیومن ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ سے بدھ کو ریاض میں مرکز کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی۔ چونکہ دونوں بہنوں کا طبی معائنہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صفا اور مروہ محمد ناصر بن الجردانی نے اپنے والدین کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے کے دوران اپنا طبی معائنہ کرایا۔
الربیعہ نے زور دے کر کہا کہ مملکت اپنی جدید انسانی اور تکنیکی صلاحیتوں کی وجہ سے پیچیدہ سرجریوں میں مہارت حاصل کر چکی ہے۔ سا کامیابی نے سعودی عرب کو ایسے علاج کے کیسز کی ایک اہم منزل بنا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام مملکت کی انسانیت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے اورسعودی عرب یہ انسانی خدمت جغرافیائی اور نسلی سرحدوں سے بالا تر ہوکر کر رہا ہے۔
درایں اثنا عمانی جڑواں بچیوں کے والدین نے اپنی دو بیٹیوں کی علیحدگی اور ان کے علاج کے لیے ضروری کوششوں کو بروئے کار لانے کے لیے مملکت کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
قابل ذکر ہے کہ صفا اور مروہ کی 2007 میں ریاض کے نیشنل گارڈ کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں کھوپڑی، دماغ کی جھلی اور درمیانی رگوں میں چپکنے والی جگہوں کو الگ کرنے کے لیے کامیاب سرجری کی گئی تھی۔