’صدربائیڈن ایرانی صدر کونیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکیں‘

ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے متوقعے امریکی دورے پرکانگریس کے ارکان برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کےرکن ڈان بیکن نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت سے روکیں۔

رکن کانگریس ڈان بیکن نے کہا کہ تہران ہماری سرزمین پر امریکیوں کو مارنے کی جارحانہ منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بیرون ملک ایرانی اپوزیشن نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے خلاف نیویارک کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ انہیں 1988 میں ایرانی پبلک پراسیکیوشن میں کام کے دوران بہت سے سیاسی قیدیوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ارتکاب کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔

عوامی مجاہدین خلق تنظیم کی سربراہی میں ایرانی قومی کونسل نے جمعرات کی شام واشنگٹن میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں وکلاء، سابق قیدیوں اور 1988 کے قتل عام میں زندہ بچ جانے والوں نے شرکت کی۔

شرکاء نے رئیسی پر 1980 کی دہائی میں ایرانی مخالفین کے خلاف تشدد اور قتل کے جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا۔ امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ رئیسی کو امریکا آنے سے روکا جائے اور اگلے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب نہ کرنے دیا جائے۔

کانفرنس کے دوران قتل عام میں بچ جانے والے امریکا، کینیڈا اور جرمنی کے شہریوں نے ایرانی حکومت کے ساتھ اپنی آپ بیتیاں سنائیں۔ قانونی چارہ جوئی کے کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ رئیسی تین دیگر ججوں کے ساتھ نام نہاد "ڈیتھ کمیٹی" میں شریک تھے، جس نے عوامی مجاہدین تنظیم کے ارکان کو ہزاروں پھانسیوں اور تشدد کا حکم دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں