’اسرائیلی ڈرون جنہوں نے غزہ کے مکینوں کا سکون برباد کررکھا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیسان اکثر غزہ شہر کے شمال میں اپنے سیکنڈری اسکول میں اپنے ہم جماعتوں سے پوچھتی ہے کہ کیا وہ کل رات اسرائیلی ڈرون کی گونج سے سو سکے تھے، جو غزہ کی پٹی کے آسمان کو نہیں چھوڑتے اور اس کے بہت سے مکینوں کو پریشان کرتے ہیں۔

چوبیس گھنٹے اسرائیلی ڈرون جسے غزہ کے لوگ اس کے شور کی وجہ سے "الزنانہ" کہتے ہیں تنگ اور گنجان آباد ساحلی پٹی میں کہیں سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ڈیڑھ دہائی سے اسرائیل نے اس پٹی پر سخت زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کا رقبہ تقریباً 360 مربع کلومیٹر ہے اور اس میں 23 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جن میں سے دو تہائی مہاجرین ہیں۔

سر درد آ رہا ہے

شمالی غزہ میں "المرابطین"کالونی کے پڑوس میں سمندر کے کنارے سے 200 میٹر سے بھی کم فاصلے پر ایک چھوٹے سے گھر میں جس کی دیواروں میں دراڑیں پڑی ہوئی معلوم ہوتی ہیں بیسان اب "زنانہ" کی آواز کو برداشت نہیں کر سکتی۔ جیسے جیسے شام ڈھلتی جاتی ہے گاڑیوں کے ہارن اور گلی کوچوں کی آوازیں کم ہوتی جاتی ہیں مگر اس خوفناک ڈرون کی آوازیں بڑھتی جاتی ہیں۔

بیسان نے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں ایک "ثقال خانے" کی طرف اشارہ کیا۔ "میں رات کو اپنے اسباق اور امتحانات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں اس پریشان کن اور خوفناک شور کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتی۔"

وہ کہتی ہیں "کبھی کبھی مجھے تکیہ اپنے سر پر رکھنا پڑتا ہے تاکہ مجھے اس کی سرسراہٹ سنائی نہ دے،ہ کہتی ہیں کہ اس طیارے سے خوف اور سردر کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

بیسان کو لگتا ہے کہ اس کی خواب گاہ میں بھی ‘’زنانہ‘ موجود ہے۔ بے چینی اور خوف ہمارے گھروں سے نہیں نکلتے۔ کبھی کبھی میں اپنی ماں سے کہتی ہوں دیکھو، (سر درد) آ رہا ہے۔"

24 گھنٹے

قابض اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2021 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران جو 11 دن تک جاری رہی، ڈرونز نے غزہ کی پٹی پر 6,000 گھنٹے پرواز کی۔

گذشتہ اگست میں اسرائیل اور اسلامی جہاد تحریک کے درمیان ایک خونریز فوجی تصادم شروع ہوا، جو تین دن تک جاری رہا، جس کے دوران فوج نے 2,000 سے زائد فلائنگ آورز ریکارڈ کیے۔

فوج کے مطابق جنگ اور کشیدگی کے اوقات سے دور اسرائیلی طیارے اوسطاً ہر ماہ تقریباً 4,000 گھنٹے غزہ کی پٹی پر پرواز کرتے ہیں۔

عمری ڈرور نے کہا"ہمارے ریموٹ کنٹرول والے طیارے 24 گھنٹے کے عرصے میں معلومات اکٹھا کرتے ہیں"۔

نہ دن رات نیند

بیسان کی والدہ بیالیس سالہ ریم نے کہا کہ میں اپنے پانچ بچوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے کرتے تھک گئی ہوں۔وہ گھر کی ایک دیوار کے ساتھ کمرے کے بیچ میں کرسی پر بیٹھی ہیں اور اسرائیلی ڈرون طیاروں کی مسلسل آواز سے پریشان ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ میں بنیادی طور پر اتنی ہی خوفزدہ ہوں جتنا وہ ہیں۔ میں اپنے بچوں کو ذہنی سکون کیسے فراہم کروں؟" اس خاندان کا گھر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے مقام سے 200 میٹر سے بھی کم کے فاصلے پر ہے۔

ریم نےمزید کہا کہ "لڑکے وقفے وقفے سے سوتے ہیں۔ ہم جاگتے ہیں، ہم سوتے ہیں، پھر ہم جاگتے ہیں"۔

جیسے ہی ابو حسن (60 سال) محسوس کرتا ہے کہ جنوب مغربی غزہ میں تل الحوا محلے پر کم اونچائی پر ایک ڈرون اڑ رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید یہ ڈرون کوئی حملہ کرنے والا ہے۔

"الزنانہ لغت کےاعتبار سے شور شرابے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب بھی ہم اس کی آواز سنتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ جنگ قریب ہے۔

"غزہ مینٹل ہیلتھ پروگرام" کی عمارت میں اپنے کلینک میں ماہر نفسیات سامی عویضہ کو ہر ہفتے درجنوں ایسے کیس آتے ہیں جو جنگ کی وجہ سے صدمے یا نفسیاتی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔

وہ اپنے دکھ کا اظہار کرتے کیونکہ "زنانہ‘‘ کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں نفسیاتی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے علاج کے لیے کوئی خاص مطالعہ موجود نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں