سعودی عرب کا نابینا طلال السبیعی ایک ماہر فوٹو گرافر کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے فوٹوگرافر طلال السبیعی کو فوٹو گرافی کا جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ فطرت کی خوبصورتی کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اپنے کیمرے کا استعمال کرتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ السبیعی ایک نابینا نوجوان ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں طلال السبیعی نے وضاحت کی کہ وہ پیدائش سے ہی جزوی طور پر نابینا ہیں لیکن اس معذوری نے انہیں اپنے پسندیدہ مشغلے پر عمل کرنے اور ترقی دینے سے نہیں روکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوٹو گرافی میں ان کی شروعات 2013ء میں ایک ٹیبلٹ ڈیوائس کے ذریعے ہوئی تھی اور اس کے بعد سے وہ دن بہ دن اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں۔ ان کے والدین نے انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک پیشہ ور کیمرہ خریدنے کی ترغیب دی۔ السبیعی نے سال 2018ء میں اسے خریدا جہاں سے اس کی فوٹو گرافی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوٹو گرافی کے شوق میں ان کا بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوٹو گرافی انہیں بہت سے افق فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ انسانی آنکھ سے ناواقف مناظر، جہتوں اور زاویوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، جس سے آپ اپنے اردگرد کائنات اور فطرت کی خوبصورتی پر غور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوٹو گرافی ایک شاندار، وسیع اور انتہائی دلچسپ شعبہ ہے اور یہ کہ وہ خود کو اس میں کسی بھی دوسرے شعبے یا ہنر سے زیادہ وابستہ پاتے ہیں۔

طلال السبیعی نے کہا کہ تصویر کشی میں میرا مقصد معذوروں کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی تھا کہ وہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو تلاش کریں اور انہیں سامنے لائیں۔

فوٹوگرافر نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس کی تصاویر نے سعودی عرب کے اندر ہو یا باہر بہت سے لوگوں نے ان کے کام کو سراہا۔ السبیعی اپنی فوٹو گرافی کی ایک نمائش منعقد کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں