اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے بعد لبنان شام کے ساتھ اپنی سرحدوں کےتعین کا منتظر
لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر الیاس بو صعب نے لبنان اور شام کے درمیان سمندری سرحدوں کی وضاحت کرنے کے لیے دمشق کے ساتھ "براہ راست اور عوامی طور پر" رابطے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب لبنان نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ اپنی سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
بو صعب جنہوں نے گذشتہ مہینوں میں اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحد پر امریکی ثالث اموس ہوچسٹین کے ساتھ لبنان کی طرف سے مذاکرات کی قیادت کی نے’اے ایف پی‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: "لبنانی حکومت کی طرف سے شام کے ساتھ براہ راست،اعلانیہ اور بلا جھجھک بات چیت ہونی چاہیے، تاکہ علاقائی سیاسی اختلافات کوایک طرف رکھ کرلبنان کی جغرافیائی سرحدوں کا مکمل تعین کیا جا سکے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں شامی ریاست کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنی چاہیے اور سمندری سرحدوں کی عوامی سطح پر وضاحت کرنی چاہیے.آئندہ کسی بھی حکومت کو یہ کام کرنا چاہیے۔"
بو صعب کا یہ مطالبہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کے تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت اسرائیل کو متنازع علاقے سے گیس کی پیداوار شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کی ڈیل سے خطے میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں مدد ملے گی۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب یوکرین اور روس کی جنگ کی وجہ سے یورپ کو گیس کے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں لبنان اور اسرائیل کے گیس کے ذخائر روسی گیس کا متبادل ہوسکتے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل حالت جنگ میں ہیں اور سرکاری طور پر دشمن ہیں۔ جہاں تک لبنان اور شام کے تعلقات کا تعلق ہے تو وہ بہت پیچیدہ ہیں۔ دمشق نے کئی سال تک لبنان پر بالا دستی کیے رکھی۔ لبنان میں شامی فوج تیس سال رہی۔ سنہ 2005ء میں عالمی دباؤ کے بعد وہ دست بردار ہوئی۔
شام کے ساتھ تنازع سے 800 کلومیٹر
لبنان اور شام کے درمیان سرحدوں کی کوئی واضح حد بندی نہیں ہے، نہ زمینی اور نہ ہی سمندر کی طرف سے۔
بو صعب نے کہا کہ شام اور لبنان سرحدوں کی حد بندی کے دو مختلف طریقے اپنا رہے ہیں اور اس لیے یک بہت بڑا تنازعہ ہے، جو 800 مربع کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے جو ہمارے اور اسرائیلیوں کے درمیان متنازع تھا۔
بو صعب کے مطابق لبنان شام کے ساتھ اپنی سرحدوں کی حد بندی کیے بغیر شمال میں واقع بلاکس 1 اور 2 میں کام اور تلاش شروع نہیں کر سکتا۔
لبنانی ایوان صدر نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ایک سرکاری وفد سمندری سرحدوں کی حد بندی پر بات چیت کے لیے دمشق جائے گا، لیکن یہ دورہ نہیں ہوا۔
شام کے انخلاء کے بعد سے لبنان اور شام کے درمیان سرکاری دوروں کی شدت میں کمی آئی ہے اور وہ عام طور پر وزراء اور دمشق کے اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والی شخصیات کے انفرادی اقدامات تک محدود ہیں۔
بو صعب نے کہا کہ حد بندی برسوں کی رکاوٹ کے بعد جلدی اور "اچانک" نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام ایک ایسا ملک ہے جس کی اپنی خامیاں اور مطالبات ہیں۔
واشنگٹن کی ثالثی میں کئی مہینوں کے مشکل مذاکرات کے بعد 27 اکتوبر کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔
-
امریکہ، لبنان کو 89 ملین ڈالر کی امداد دے گا
امریکہ معاشی بحران کے شکار لبنان کو 89 ملین ڈالر کی امداد دے گا۔ یہ مالی امداد ...
مشرق وسطی -
معاشی بحران زدہ لبنان کی نصف آبادی کو خوراک فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یو ایس ایڈ
امریکی ادارے یو ایڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لبنان کی نصف آبادی کو خوراک اور گھریلو ...
بين الاقوامى -
لبنانی سیاست دان ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ دیں: پاپائے روم
پاپائے روم پوپ فرانسیس نے لبنانی سیاست دانوں پر زوردیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو ...
مشرق وسطی