اسرائیل میں ہیضےکے بیکٹیریا کا انکشاف، وائرس کے شام سے منتقل ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزارتِ صحت نے جمعہ کے روز انکشاف کیا ہے کہ حکام نے ملک کے شمال میں ایک آبی ذخائر میں ہیضے کے بیکٹیریا کا پتہ چلا ہے، جو ممکنہ طور پر پڑوسی ملک شام سے منتقلی کا نتیجہ ہیں۔

وزارت صحت کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس مرحلے پر بیکٹریا کا پتہ لگانے سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے "اسرائیلی آبی وسائل کی حفاظت" کے لیے اقدامات کیے ہیں اور پانی کی کسی بھی ممکنہ آلودگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی ہے خاص طور پر شمالی علاقوں میں جہاں ممکنہ طور پر وائرس کے شام سے منتقل ہونے کے خدشات ہیں۔

آبپاشی میں استعمال کیا جاتا ہے

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں وزارت صحت کی طرف سے تیار کردہ نمونوں میں ٹیسٹوں سے پتہ چلا ہے کہ ملک کے شمال میں یرموکیم آبی ذخائر سے ایک نمونہ ہیضے سے آلودہ تھا۔ اس کی اصل بیکٹریا زیادہ تر ممکنہ طور پر شام ہے وہاں پھیلنے کاخدشہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیل جارڈن ویلی واٹر ایسوسی ایشن کے مطابق آلودہ آبی ذخائر کا پانی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شدید اسہال اور پانی کی کمی

قابل ذکر ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں شام میں ہیضے کی وبا کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ بیماری پورے شام میں پھیل گئی ہے اور پچھلے مہینے لبنان تک پہنچ گئی ہے۔

ہیضہ عام طور پر آلودہ پانی، خوراک یا سیوریج سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری شدید اسہال اور پانی کی کمی کا سبب بن سکتی ہے جس کا علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں