سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ صحت کے تحفظ کے لیے مالیاتی ثالثی فنڈ جسے وبائی فنڈ بھی کہا جاتا ہے کی حمایت کرے گا اور اسے 50 ملین ڈالر کے فنڈز فراہم کرے گا۔
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اپنے خطاب میں اس فنڈز فراہمی کا بتایا، فنڈز کااعلان ان کی جانب سے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے جی 20 سربراہی اجلاس میں کیا گیا تھا۔
یہ اقدام سال 2020 میں مملکت کی جانب سے گروپ کی صدارت کے نتائج کے دوران سامنے آیا جب اس وقت گروپ کے رہنماؤں نے عالمی وبائی امراض سے بچاؤ کی تیاری اور ردعمل کے اقدامات میں پائے جانے والے خلا کو دور کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے کے لیے سعودی صدارت کے اقدام کی تعریف کی۔
اپنے اختتامی بیان میں G20 ممالک کے رہنماؤں نے 2020 میں گروپ کی صدارت کے دوران اس اقدام کے ابتدائی خیال کو فروغ دینے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ اسی اقدام کے تحت مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اس فنڈ کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اور خطوں کو مستقبل میں ہونے والی وبائی امراض کو روکنے کی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے مالی مدد کرنا تھا۔
یہ فنڈ لیبارٹری کے نظام، بیماریوں کی نگرانی، ہنگامی مواصلات اور انتظام، کمیونٹی کی مصروفیت اور صحت کی افرادی قوت رقوم فراہم کرے گا۔
سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی گئی رقم اور ملکوں،اداروں اور عالمی این جی اوز کے تعاون سے فراہم کردہ فنڈزکی مجموعی مالیت 1.4 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ رقم وبائی امراض کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگی۔ اس سے طبی اور غیر منفعتی اشیا کی خریداری میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔ -طبی انسدادی اقدامات اور ریگولیٹری اقدامات کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔