ایران میں جاری احتجاجی مظاہرین نے بدھ کے روز اس وقت اپنے احتجاج کو ایک مکمل نئی شکل دے دی۔ جب دوحہ میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے دوران امریکہ کے ہاتھوں ایرانی ٹیم کی شکست پر ایران کے گلی کوچوں میں جشن منانے نکل آئے۔ یہ مناظر دنیا کے لیے حیران کن اور ایران کے لیے پریشان کن بن گئے۔
اس سے قبل صرف بھارت ایک ایسا ملک تھا جس کے زیرانتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں کشمری بھارتی قبضے کے خلاف اظہار نفرت کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے پرچم اٹھائے پاکستان اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور بھارتی مرکزی پولیس یا فوج کی فائرنگ کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔
مگر یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے گلی کوچوں میں خود ایرانی ٹیم کی شکست کا جشن منایا گیا ہے۔ ایران کے مختلف شہروں کی گلیوں میں یہ مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ایران کے ان شہروں میں دارالحکومت تہران ، زاہدان، سنانداج ، قم اور مشہد شامل ہیں۔
واضح رہے ورلڈ کپ میں ایرانی فٹ بال ٹیم کا منگل کے روز دوسرا میچ امریکی ٹیم کے ساتھ ہوا ، جس میں ایران کی ٹیم امریکی ٹیم کے ایک گول کے مقابلے میں کوئی گول نہ کر سکی اور ہار گئی۔
اس اہم فٹبال میچ میں فٹبال کے علاوہ سیاسی مقابلہ بازی کا ماحول بھی غالب رہا ۔ اس لیے اسے ایک بڑے سیاسی میچ کے طور پربھی دیکھا گیا۔ میچ سے پہلے اور دوحہ کے سٹیڈیم سے باہر بھی یہ تاثر گہرا رہا۔
بہت سے ایرانی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے دوران ایرانی فٹبال ٹیم کے بھی خلاف ہو چکے ہیں۔ وہ ایران کی ہر چیز کی طرح اس ٹیم کو بھی ایرانی رجیم کی نمائندہ سمجھتے ہیں اور نفرت کرنے لگے ہیں۔
ایرانی سوشل میڈیا کے مطابق اس سے قبل ایرانی ٹیم کے انگلینڈ سے ورلڈ کپ میچ میں شکست پر بھی بعض ایرانی شہروں میں سوشل میڈیا پر بڑی خوشی اور شادمانی کا اظہار کیا تھا۔
Waving American flag in the streets of Iran.
— Masih Alinejad 🏳️ (@AlinejadMasih) November 30, 2022
For 43 years regime brainwashed Iranians to hate America.
But see how people across Iran are celebrating the victory of Us soccer team against the Islamic Republic.
People are heard shouting "America, we are behind you.”#MahsaAmini pic.twitter.com/cjvQ89GFMy
اب امریکہ سے ایران کی شکست کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے انتہائی مذہبی شہر قم جسے ایران کا مذہبی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے میں ایرانی شہری رقص کر رہے ہیں۔ ایرانی شہر ماریوان ، ایرانی کردستان میں مظاہرین اس موقع پر ' مرگ بر ضامنہ ای ' کے نعرت لگا رہے ہیں۔
ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر اور اس سے متصل شہروں میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی کرکٹ ٹیم کی شکسصت پر جشن کی روایت نئی نہیں ہے ، ویسے بھی کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے لیکن ایرانی شہروں میں امریکہ کے لیے محبت ایک بہت غیر معمولی بات ہے۔