عراقی صوبے بابل میں ایک ہولناک جرم سامنے آیا ہے جہاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" ایپلی کیشن پر "ایموجی" کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
ایک عراقی سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ بابل کے جنوب میں الکفل شہر میں رہنے والے ایک خاندان کو اس کے رشتہ داروں نے مسلح حملے کا نشانہ بنایا، کیونکہ اس خاندان کے ایک فرد نے ’اداس‘ کی بجائے ایک فوت شدہ شخص کی تصویر پر ہنستے چہرے کی ایموجی لگا دی تھی۔ فوت ہونے والا ان کا ایک رشتہ دار تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقتول شخص کے اہل خانہ نے اپنے رشتہ دار کی برسی کے موقع پر اس کی تصویر شائع کی، لیکن مقتول کے خاندان کے ایک فرد نے جو کم عمر اور ان پڑھ ہے، نے ایک ایموجی لگایا۔ یہ ہنستے چہرے کی ایموجی تھی جس پر مرنے والے کے گھر والوں کو شدید غصہ آیا۔
جريمة غريبة تهزّ #العراق.. "إيموجي أضحكني" يقتل صاحبه ويصيب 3 آخرين من أسرته في هجوم مسلح من "عائلة متوفي" في محافظة بابل#الحدث pic.twitter.com/R6tacGLZsu
— ا لـحـدث (@AlHadath) December 9, 2022
اچانک حملہ اور فائرنگ
متاثرین کے اہل خانہ نے تصدیق کی کہ وہ بدھ کی شام کو ان کے گھر پر بغیر پیشگی انتباہ کے اچانک حملے اور ان کی طرف ہتھیاروں سے فائر شروع ہونے سے حیران رہ گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ کی موت واقع ہوگئی۔ اس کا ایک بھائی اور بھتیجا زخمی ہوگئے۔
متاثرہ خاندان نے اس بات کی نفی کی کہ دونوں خاندانوں میں کوئی پرانی ناچاقی چل رہی تھی۔
-
ترکیہ: اسکول کے بیت الخلا میں طالبہ کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا
قتل کی گھناؤنی واردات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا
بين الاقوامى -
وفادار شکاری کُتے نے گولی مار کر مالک کو قتل کرڈالا
ترکیہ میں ایک شکاری کُتے نے اپنے ہی مالک کو اس کی بندوق سے گولی چلا کرموت کی نیند ...
بين الاقوامى -
امریکی سٹور مینیجر نے چھ افراد کو قتل کر کے خود کشی کرلی
امریکی ریاست ورجینیا میں عینی شاہدین نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایک وال مارٹ اسٹور ...
بين الاقوامى