’سعودی عرب کے نابینا ریڈیو میزبان خالد الحربی جنہیں مشکلات سے کھیلنے کا ہنر آتا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

معذوری نابینا سعودی خالد الحربی کو ریڈیو کے کام کی مشق کرنے سے نہیں روک سکی۔ اپنی معذوری کی تمام مشکلات کے باوجود خالد میڈیا کے میدان میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔ وہ قرآن پاک کے بہترین قاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے منتظم بھی ہیں اور انہیں گفتگو کو بھی ہنرآتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود ریڈیو پر ایک کامیاب میزبان کے طور پر کام کررہے ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کے ساتھ اپنے انٹرویو میں خالد نے میڈیا کے شوق کے بارے میں اپنی کہانی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا میں کام میرا بچپن کا شوق تھا جب وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگرام دیکھتے تھےاور مختلف ریڈیو اسٹیشنوں پر خاندانی، ثقافتی اور مذہبی پروگراموں کے بارے میں مکالموں کی طرف مائل تھا۔ انہوں نے مڈل اسکول کی تعلیم حاصل کی تو اپنی صورت حال کو بدلنے کا سوچا۔ انہوں نے ایک ریڈیو پروگرام پریزینٹر کے طور پر کام کرنے کا ارادہ کیا۔ براڈ کاسٹنگ خالد کا بچپن کا جنون تھا اور اس نے یہ جنون اور اس میدان سے اپنی لگن محنت سے پوری کی ۔بینائی سے محرومی ان کی منزل کھوٹی نہیں کرسکی۔

اسکول تھیٹر

خالد نے اپنی میڈیا سرگرمیوں کا آغاز اسکول تھیٹر سے کیا جہاں انہوں نے سامعین کے سامنے کھڑے ہونے کے خوف کا بت توڑا۔ رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کئی بار اسٹیج پر چڑھ کراپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ میڈیا کا ماحول اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خصوصی کورسز میں شرکت کی اور خود کو ایک ریڈیو پیش کار کے طور پر ہراعتبار سے تیار کرلیا۔

سفر کا آغاز

نابینا خالد الحربی نے اپنے کیریئر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے کیریئر کا آغاز ارد گرد کے ماحول کے لحاظ سے بہت مشکل تھا جو میرے لیے میرے نابینا پن کی وجہ سے مواقع کو روک رہا تھا، خاص طور پر اسکول میں ہر کوئی مجھے اس طرح کی ذمہ داری دینے سے ڈرتا تھا۔ ایک نابینا شخص کے لیے موقع ملنا مشکل تھا کیونکہ اسکول میں نابینا افراد نہیں تھے جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ اس معاملے کے باوجود میں چیلنج کر کے ان کے خوف کا سامنا کر رہا تھا اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں مناسب مدت کے لیے ریہرسل کر کے انھیں تسلی دے رہا تھا تاکہ ان کے سامنے میری قابلیت ثابت ہو۔ مجھے یقین تھا کہ یہ تھکاوٹ میرے خواب کو عبور کرنے والا جہاز ہو گا جس کی میں تلاش کر رہا ہوں۔

خوف کی رکاوٹ

ایک سفر اور کوششوں کے بعد خالد لوگوں کا اعتماد تک جیتنے میں کامیاب رہے۔ خصوصی کورسز کے ساتھ نفسیاتی معاونت کے طور پر کام کرنے اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کسی بھی پروگرام کی تیاری میں بطور معاون تیاری کرنے میں حصہ لینے اور میڈیا کے ماحول میں داخل ہونے کی کوشش کرنے میں کامیاب رہے۔ مگریہ سب مسلسل سیکھنے کا نتیجہ تھا۔ پھر وہ ایک پروڈکشن کمپنی کے ذریعے گلف روٹانا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور ایک پروگرام تیار کیا گیا۔ میرا ٹیلی ویژن ریکارڈ کیا گیا اور یہ میڈیا کے شعبے کا نقطہ آغاز تھا۔ سنہ 2013 انہوں نے ریڈیو پر باقاعدہ پروگرام کی میزبانی شروع کردی۔

سب سے اہم رکاوٹیں

الحربی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ سب سے اہم رکاوٹ مجھے میڈیا کے میدان میں کام کرنے کا موقع نہ ملنا یہ تھی کہ میں نابینا ہوں، ٹیلی ویژن یا ریڈیو پر ایک براڈکاسٹر کے طور پر میرے ساتھ ایک نوکری کا انٹرویو میں اس لیے ناکام ہوجاتا کیونکہ میں ایک نابینا تھا مگر مجھے امید تھی کہ یہ ٹھوکریں کھل جائیں گی۔ مجھے ممتاز سعودی نشریاتی اداروں میں سے ایک کام کا موقع ملے گا، کیونکہ میری معذوری نے مجھے میڈیا میں آنے سے نہیں روکا۔ سب سے بڑے بین الاقوامی چینلز نے میری معذوری کے باوجود میری تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم کیا اور مجھے وہاں پر پروگرام پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں