ایرانی مظاہرے

برطانیہ کی ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی تیاری

اس اقدام کو برطانوی وزیر سلامتی اور ہوم سیکرٹری کی حمایت حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تہران میں حکومت مخالف مظاہروں پر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 7 افراد کو حراست میں لینے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ برطانیہ باضابطہ طور پر ایرانی پاسداران انقلاب ملیشیا کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دے گا۔ٹیلی گراف اخبار کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا کہ برطانوی حکومت جلد ہی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دینے کی تیاری کر رہی ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

پابندی کے بعد کیا کیا جرم بن جائے گا؟

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا اعلان ہفتوں کے اندر کردیا جائے گا اور اس اقدام کو برطانوی وزیرِ سلامتی ٹام ٹوجندھاٹ اور ہوم سیکریٹری سویلا بریورمین کی حمایت حاصل ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد اس سے تعلق رکھنا، اس کے اجلاسوں میں شرکت کرنا اور عوامی مقامات پر اس کا نشان اٹھانا ایک جرم کہلایا جائے گا۔

ایران میں احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا

برطانوی ہوم آفس نے فوری طور پر اخبار کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مہسا امینی کی وجہ سے 7 گرفتار

گزشتہ ہفتے ایرانی پاسداران انقلاب نے 22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی کے قتل کے بعد ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے حکومت مخالف مظاہروں پر برطانیہ سے روابط رکھنے والے 7 افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ مہسا امینی کو غیر مہذب لباس پہننے کی بنا پر ایرانی اخلاقی پولیس نے گرفتارکرلیا تھا اور پولیس کی حراست میں ہی 16 ستمبر کو مہسا کی موت ہوگئی تھی۔

بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے ایران پر زور دیا کہ وہ دوہری شہریت رکھنے والوں کو حراست میں لینا بند کرے اور کہا کہ اسے سفارتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں