اسرائیل کی طرف سے اعلانیہ دعووں کے نہ ہونے کے باوجود شام میں اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ان حملوں کا مقصد تل ابیب کے پڑوس میں ایرانی ملیشیاؤں اور لبنانی حزب اللہ کو اپنے پنجے گاڑھنےسے روکنا ہے۔ تاکہ حزب اللہ کے شامل میں اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
امریکا کے ساتھ اتحادی ملک کے ایک انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران نے شام میں ایک جامع فضائی دفاعی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ ایران نے شام میں دفاعی نظام کے قیام کے لیے سامان اور افراد پہلے ہی بھیج رکھے ہیں۔
حملے میں پروجیکٹ لیڈر کی ہلاکت
’نیوز ویک میگزین‘ نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جسے اسرائیل نے بار بار فضائی حملوں کے ذریعے ناکام بنانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے حملوں میں شام میں پاسداران انقلاب کے پاسداران کے ایک کرنل کی ہلاکت ہوئی۔ یہ کرنل شام میں ایران کے اس مبینہ میگا دفاعی منصوبے کا انچارج تھا۔
ذریعے نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ شام میں اسرائیلی فضائی حملے 2017ء کے آخر میں شروع ہوئے، جب ایرانی افواج نے شام میں اپنے پنجے مضبوط کرنا شروع ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ان حملوں نے شامی علاقوں میں ایرانی فوجی مقامات اور مفادات کو نشانہ بنایا جو اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔
حکمت عملی میں تبدیلی
ذرائع نے نشاندہی کی کہ گذشتہ دو سال میں ایرانی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے، کیونکہ تہران نے شام میں اپنے فائدے کے لیے دسیوں ملین ڈالرکی لاگت سے فضائی دفاعی نظام نصب کیے تاکہ اسرائیلی فضائی حملوں سے نمٹا جا سکے۔
ذرائع نے کہا کہ ان دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ شامی حکومت کی افواج کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کے طور پرکیا گیا ہےجس کا مقصد شام کے اندر سے ایک آزاد ایرانی فضائی دفاعی نظام کی تنصیب کو قابل بنانا ہے۔
ایرانیوں نے شام میں شامی رجیم کے خلاف اسرائیلی حملوں کا پتہ لگانے اور حملوں کی روک تھام کے لیے ریڈاروں کو اپ گریڈ کرنے میں بھی معاونت کی ہے۔
اس کوشش میں شامل ہتھیاروں میں ٹھوس ایندھن سے چلنے والا صیاد (ہنٹر) 4B میزائل بھی شامل تھا، جس کی رونمائی نومبر میں ایک تقریب میں کی گئی تھی جس میں ایران کی عسکری قیادت کے سینیر ارکان نے شرکت کی تھی۔
میزائل کو باوار 373 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی رینج 186 میل سے زیادہ ہے، جس کی ریڈار رینج 280 میل سے زیادہ ہے۔
حکومتی افواج حملے کی زد میں
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی بیٹریاں شامی سرزمین پر حکومتی فورسزکے قریب نصب کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں کا خطرہ ہے۔
اس نے پچھلے دو سال میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے بڑھتے ہوئے ایرانی نیٹ ورک پر 7 حملوں کی بھی نشاندہی کی، جن میں اکتوبر 2021 میں پالمیرا اور طرطوس، دسمبر 2021 میں لطاکیہ، مارچ 2022 میں دمشق، جولائی 2022 میں طرطوس ، نومبر اور دسمبر 2022 میں حمص میں دو حملے شامل ہیں۔
پچھلے کچھ سالوں میں شام میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 10 ایرانی مارے گئے ہیں اور مارچ 2022 کے فضائی حملے میں مارے جانے والے دو ایرانیوں کی شناخت مرتضیٰ سعید نژاد اور احسان کربلا پور کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں ایئر ڈیفنس انجینئر تھے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اس وقت اموات کا اعتراف کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
ایران نے الجعفری کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی جانب سے سڑک کنارے نصب بم سے منسوب کیا۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران تل ابیب نے سیکڑوں فضائی حملے کیے، جس میں شامی حکومت کی فوج کے ٹھکانوں اور ایرانی اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔