مغربی کنارے میں یہودی آباد کار کو چاقو گھونپنے کے الزام میں فلسطینی نوجوان شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیلی فوج اور فلسطینی اتھارٹی حکام کے مطابق مغربی کنارے کی یہودی بستی کے قریب ایک فلسطینی نوجوان کو بدھ کی شب اسرائیلی فوج نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی نوجوان کو اس وقت گولی ماری گئی جب اس نے ایک یہودی آباد کار کو چاقو کے وار سے زخمی کیا۔

فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ الظاہریہ قصبے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سند محمد عثمان سمامرہ کو اسرائیلی قابض فوج "حوت یہودا" بستی کے قریب گولیاں مار کر شہید کیا۔ یہ یہودی بستی الخلیل کے جنوب میں فلسطینی شہریوں کی زمینوں پر قائم ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک فلسطینی"دہشت گرد اسرائیلی شہری پر چاقو حملے کے بعد موت کی نیند سلا دیا گیا"۔

اسرائیلی ایمرجنسی ٹیموں کے مطابق فلسطینی نوجوان نے جنوبی مغربی کنارے میں واقع ’شیما‘ بستی کے قریب ایک فارم پر چاقو سے حملہ کیا۔ اسی ذریعے کے مطابق اس حملے میں ایک اسرائیلی زخمی ہوا۔ زخمی اسرائیلی کی کی عمر تیس سال ہے۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا ہے تاہم اس کی جان خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق سند محمد عثمان سمامرا کی عمر 19 سال ہے۔ 2023 کے آغاز سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے شہدی ہونے والا چھٹا فلسطینی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں