عارضی رہائی پانے والی خاتون نے ایرانی جیل کو خوفناک قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی مظاہرین میں ایک خاتون لیلیٰ حسین زادہ نے جیل سے عارضی رہائی کے بعد جیلوں میں قید خواتین کی حالت کو انتہائی خوفناک بتایا ہے۔

لیلیٰ حسین زادہ کئی بار ایرانی جیل میں رہ چکی ہیں۔ اس بار حالیہ مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کی گئیں تاہم اب انہیں عارضی رہائی مل گئی ہے۔

لیلیٰ حسین زادہ نے پیر کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ' خواتین کو جیل میں سکون آور گولیوں کے علاوہ بے چین کر دینے والی گولیاں دی جاتی ہیں۔ لیکن کسی کو درد کی گولیاں نہیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا جو کچھ جیل میں وہ دیکھ کر آئی ہیں وہ خوفناک ہے اور قیدیوں کے خلاف جرم ہے۔

لیلیٰ کے مطابق ہیپاٹائٹس کی مریض خواتین کو بھی ٹیسٹ اور مناسب علاج کی سہولت نہیں دی گئی ہے۔ کھانا انتہائی غیر معیاری اور آلودہ نوعیت کا دیا جاتا ہے۔ جبکہ جیل کے ملازمین کا رویہ قیدیوں کے ساتھ انتہائی حد تک وقار سے عاری تھا۔

ایک قیدی نے احتجاجاً بھوک ہڑتال کر رکھی تھی اس کی حالت خراب ہو گئی تو جیل ملازمین کو دوسرے قیدیوں نے بتایا وہ مر جائے گا اسے ڈکٹر کے پاس لے جائیں ۔ اس کے جواب میں جیل کے اہلکاروں نے کہا ' اسے مرنے دو۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں