حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے چالیس سال سے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید کیےگئے فلسطینی کریم یونس کو رہا کیا تو اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینی ایک بار پھر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے۔ ایک اور فلسطینی مار یونس بھی چالیس سال سےپابند سلاسل رہے اور انہیں بھی حال ہی میں رہائی ملی ہے۔ ان چالیس برسوں میں اسرائیل کی کرنسی کئی بار بدلی۔ ماہر یونس اور کریم یونس کوسنہ 1983ء میں جیل میں ڈالا گیا۔ اس وقت اسرائیل میں لیرا کرنسی چل رہی تھی۔ آج جب انہیں رہائی ملی ہے تو اسرائیل میں کرنسی شیکل کی شکل میں رائج ہے۔
سنہ 1983ء کے وسط میں اسرائیلی حکام نے کریم اور ان کے کزن ماہرکو فتح تحریک سے تعلق رکھنے، ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کرنے اور پھر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
تاہم کریم اور ماہر یونس نے عمر قید کی سزا کو چالیس سال تک محدود کرکے جو ’’احسان‘‘ حاصل کیا وہ 552 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو حاصل نہیں ہے جنہیں اسرائیل نے عمر قید یا دسیوں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عمر قید کا مطلب عمر قید ہے اور عمر قید سے زیادہ کا مطلب ہے موت کے بعد بھی قیدی کی لاش کو جیل ہی میں رہنا ہے۔ اس کی مثال چند ہفتے قبل جیل میں فوت ہونے والے ناصر ابو حمید کی لی جا سکتی ہے جو جیل میں فوت ہونے کے بعد بھی قید میں ہے اور اس کا جسد خاکی اس کے ورثا کو نہیں دیا گیا۔
ماہر اور کریم کے پاس اسرائیلی شہریت نے ان کی عمر قید کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر اس طرح کی رعایت سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیےگئے فلسطینی علاقوں کے فلسطینی قیدیوں کو حاصل نہیں۔
اگرچہ ماہر یونس کو اسرائیلی بین گوریون یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ تعلیم کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، لیکن اس نے قید کے دوران القدس یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر ڈگریاں حاصل کر لی ہیں۔
تقریباً 40 سال تک ان کے انتظار کے بعد کریم یونس کی والدہ ان کی رہائی سے آٹھ ماہ قبل انتقال کر گئیں۔ وہ اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے انتیس سال اور چار ماہ ایک جیل سے دوسری جیل آتی جاتی رہیں۔
کریم کے والد 15 سال قبل 2007 میں انتقال کر گئے تھے۔ انہیں آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
کریم یونس نے کہا کہ "میرے لیے سب سے ظالمانہ اور تکلیف دہ بات وہ تھی جب میں نے رہائی سے پہلے جیل میں اپنے ساتھیوں کو الوداع کہا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کی آنکھوں میں "درد اور شکستہ دلی " دیکھی جن کے ساتھ انہوں نےاپنی عمر کا تقریباً دو تہائی عرصہ گذارا۔
کریم یونس نے "دی انڈیپنڈنٹ عربیہ" کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ ان کے کچھ ساتھی قیدیوں کی "خواہش ہے کہ ان کی سزا محدود ہو، چاہے وہ چالیس سال ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان سیاسی بات چیت کے تعطل کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے کسی ممکنہ معاہدے میں بھی تمام قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں۔
برسوں پہلےتحریک فتح نے کریم یونس کو اپنی مرکزی کمیٹی کے لیے منتخب کیا تھا۔ کریم کی رہائی کے بعد صدر عباس کی قیادت میں قائم مرکزی کمیٹی کے رکن محمود العالول نے ان سے ملاقات کی اور رہائی پر مبارک باد پیش کی۔
اس دورے کے بعد اسرائیلی حکام نے سزا کے طور پر ان رہ نماؤں کو اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے پرمٹ واپس لے لیے۔
اگرچہ کریم یونس کا کہنا تھا کہ اگر وہ چالیس سال قبل وقت پر واپس چلا جاتا تو وہ اسرائیلی فوجی کو اغوا کرکے قتل نہ کرتا۔
آج اسرائیلی فوج کے خلاف آپریشن کرنے کے امکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کریم نے کہا کہ "سب کچھ اپنے وقت پر پوتا ہے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین نے ایک دوسرے کو تسلیم کر رکھا ہے اور ان کےدرمیاب باہمی امن معاہدے موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ اپنا حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے، اسرائیلیوں کے ساتھ امن اور مساوات کے حصول اور فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس وقت 19 فلسطینی قیدی ہیں جنہوں نے اسرائیلی جیلوں میں 30 سال سے زیادہ کا عرصہ گذارا ہے۔ 41 دیگر ایسے قیدی ہیں جنہوں نے 25 سال سے زائد عرصہ قید کاٹ دی ہےاور 350 سے زائد ایسے قیدی ہیں جو 20 سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں ہیں۔