سعودی عرب کے ایک باصلاحیت نوجوان فوٹو گرافر فواز الزہرانی نے بین الاقوامی ایکشن فلموں کے انداز میں گھرکے صحن کو ایسے مناظر اور پس منظر میں تبدیل کیا جو جنگلات اور جنگوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔
فوٹوگرافر فواز الزہرانی اپنے کیمرے اور آسان ٹولز سے انتہائی خطرناک زاویوں کو ریکارڈ کرنے میں کامیاب رہے جس نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر غیرمعمولی توجہ حاصل کی اورسوشل میڈیا پران کی فوٹو گرافی میں ان کے منفرد ٹیلنٹ کو سراہا جا رہا ہے۔ وہ اپنے کیمرے میں ایک عام سی جگہ پرایسے مناظر تشکیل پاتے ہیں جن سے جنگوں اور جنگلات کے منفرد مناظرسامنے آتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’’میں نے الیکٹرانک گیمز اور فلمی پوسٹرز کے ذریعے دریافت کیا کہ مجھے بچپن سے ہی نقل و حرکت کا ماحول پسند ہے اور میں نے تصاویر میں سنیمیٹک اثرات کا استعمال کرنا شروع کر دی۔
میں ڈیزائن اور بیک گراؤنڈ میوزک کے ذریعے تصویر کو مزید واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تب سے میں نے محسوس کیا ہے کہ میرے مقاصد اور جھکاؤ ایکشن سین اور سسپنس کی طرف ہیں۔
ہنر کا اظہار
الزہرانی نے مزید کہا کہ کچھ مناظر میں خون کی موجودگی کی وجہ سے لوگوں کے تبصروں سے خوفزدہ ہونے کے باوجود مجھے ناظرین کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی۔ میں نے اس میدان میں اپنا کام جاری رکھنے اور اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو جاننے کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "آغاز ڈیزائن ٹولز حاصل کرنے سے تھا، جن میں سے سب سے اہم فوٹوشاپ، لوازمات اور کپڑوں کے فنون کو سیکھنا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے فوٹو گرافی میں مہارت حاصل کی اور میں یوٹیوب پرسیکھی چیزوں کو عملی شکل دیتا"۔
سنیما کے کام
فوٹوگرافر الزہرانی نے بتایا کہ انہوں نے لڑائیوں کے ڈائریکٹر کے طور پر کچھ سیریز میں حصہ لیا اور نیشنل گارڈ کے ساتھ قومی دن پر کچھ اشتہارات پر کام کیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ وہ سعودی عرب میں ایکشن فلموں کی سطح کو بلند کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس قسم کی فلم کے لیے وہ ایک خصوصی پروڈکشن کمپنی قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں جو تربیت، اوزاروں کے لوازمات فراہم کرنے اور خطرناک مناظر کو عملی جامہ پہنانے کا کام بھی کرے گی۔