غربِ اردن:یہودی بستی کے قریب اسرائیلی محافظوں کی فائرنگ سے’مسلح‘فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی کے قریب اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ایک فلسطینی کو شہید کردیا ہے۔

فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 18 سالہ کرم علی احمد سلمان کو اسرائیلی قبضے نے’کدومیم‘کی بستی کے قریب گولی مارکرموت کی نیند سلا دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایک 'سویلین سکیورٹی ٹیم' نے مغربی کنارے کے شمال میں واقع بستی کے قریب 'ہینڈ گن سے لیس' ایک شخص کو گولی ماردی۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق کدومیم کیہ بستی نجی ملکیت کی حامل فلسطینی اراضی پرتعمیر کی گئی تھی۔اسرائیل نے1967ء کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے پر قبضہ کررکھا ہے اور اس میں یہودی آبادکاروں کے لیے قائم کی جانے والی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری ذرائع کے فراہم کردہ اعدادوشمارکے حوالے سے بتایا ہے کہ کرم علی سلمان مقبوضہ مغربی کنارے میں رواں ماہ مارگئے 32 فلسطینیوں میں سے ایک ہیں۔ان میں عام شہری اور عسکریت پسنددونوں شامل ہیں۔

اسرائیل کے زیرقبضہ مقبوضہ بیت المقدس میں جمعہ کوایک یہودی عبادت گاہ کے باہر مسلح فلسطینی شخص نے سات افراد کوہلاک کردیا تھا۔فلسطینی نوجوان نے یہ کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے جنین میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے کے جواب میں کی تھی۔اس میں ایک خاتون سمیت نوفلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں یہود کی عبادت گاہ کے باہر مہلک حملے کے جواب میں اسرائیلی حکومت نے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ان میں’بستیوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات‘بھی شامل ہیں۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات گذشتہ سال ہلاکتوں میں اضافے کے بعد ہوا ہے۔

اے ایف پی کے اعدادوشمار کے مطابق 2022 میں اسرائیل اورفلسطینی علاقوں میں 26 یہودی اور 200 فلسطینی مارے گئے تھے۔ ان مہلوکین میں بیشترکا تعلق مغربی کنارے سے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں