ایران میں اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، شہری مہنگائی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور معاشی مسائل سے تنگ آ چکے ہیں تاہم حکومت کسی بھی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایرانی وزارت خزانہ کے ترجمان احسان خاندوزی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون صحافی کی جانب سے اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور ٹال مٹول سے کام لیا۔
صحافی نے پوچھا کہ "ہم ملک میں درپیش چند اقتصادی چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس سے شروع کرتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت 49,000 تومان تک بڑھ چکی ہے۔" "ایک پرائیڈ کار کی قیمت 300 ملین تومان تک پہنچ گئی ہے، جب کہ گوشت 370,000 تومان فی کلو، انڈے 100,000 تومان فی کارٹن کے حساب سے فروخت ہورہے ہیں۔ یہ وہ چیلنجز ہیں جن سے لوگ روزانہ نبرد آزما ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "کچھ لوگ ملک میں اس معاشی بگاڑ کی وجہ معیشت میں حکومت کے غلط فیصلوں کو قرار دیتے ہیں۔"
اور میرا سوال یہ ہے کہ اس تناظر میں آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
تاہم، ترجمان نے یہ کہ کر جواب دینے سے گریز کیا کہ "میں اگلی کانفرنس میں سوال کے پہلے حصے کا جواب دوں گا، تاکہ اپنے ساتھ اعداد وشمار لا سکوں اور میں ملک پھیلے ان تجزیوں کو رد کر سکوں۔"
ایران کو ایک عرصے سے معاشی بحران کا سامنا ہے، ماہانہ مہنگائی کی سطح 52 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جب کہ بجٹ کا خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ ستمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران بہت سے شہریوں نے ملک میں بنیادی شخصی آزادیوں کو دبانے کے ساتھ ساتھ معاشی حالات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔