سعودی عرب کے گیارہ سالہ ریڈیو پروگرام میزبان تمیم الحارثی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں ایک گیارہ سالہ بچے نے ریڈیو پروگرام میں ایک کامیاب پروگرام پیش کاربن کراپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔

11 سالہ سعودی بچہ تمیم الحارثی ریڈیو کے میدان میں اپنی شاندار صلاحیتوں، بہترین کارکردگی اور اپنے پروگرام پیش کرنے کےمنفرد انداز کی وجہ سے لاکھوں سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ اپنی شناخت ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ نوجوان براڈکاسٹر کا ایک خاص کرشمہ ہے جس کی بنیاد خود اعتمادی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹٹ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تمیم نے کہا کہ "میری ریڈیو پروگرام کے لیے کام کی شروعات کوہ پیمائی کے دوروں سے ہوئی، جہاں میں یہ شوق میں اپنے والد کے ساتھ شیئر کرتا تھا اور میرے والد ٹیم کو سعودی عرب کی ٹپوگرافی کے بارے میں بتاتے تھے۔ سب سے اہم یہ کہ ہم جن غاروں سے گزرتےمیں اپنے الفاظ میں کچھ تنقید کے باوجود اپنے والد کو سمجھانے میں مدد کرتا تھا۔ شروع میں میری معلومات سادہ تھیں لیکن اس معاملے نے میڈیا سے میرے شوق اور محبت کو محدود نہیں کیا۔ اسکول میں پوری ہمت اور بولنے اور سمجھانے کی صلاحیت کے ساتھ بات کرتااور جب میرے والد نے اس جذبے کو دیکھا تو انہوں نے مجھے ایسے تربیتی کورسز کے ساتھ میری مدد کی جن کے نتیجے میں مَیں براڈکاسٹر بننے کے قابل ہوگیا۔ ان کورسز کے دوران مجھےالفاظ اور حروف کے مخارج اور آواز کی تہوں کو سمجھنے کاموقع ملا اور میں نے مشہور براڈکاسٹرز اور وائس اوور مبصرین کے ساتھ بہت سے کورسز کیے، یہاں تک کہ میں میڈیا کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کامیاب ہو گیا۔

تميم حارثي
تميم حارثي

خواب تعبیرمیں ڈھلنے لگے

ننھے تمیم الحارثی کا کہنا ہے کہ خواہشات امنگوں سے بڑھ کر نہیں تھیں۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ تمام تربیتی کورسزکے ذریعے ایک مشہور براڈ کاسٹر بن سکے۔ اس کا بے پناہ شوق کو پورا ہو۔ اس کے سیکھنے کی کوئی حدود نہیں تھیں اور انہیں کوششوں کے نتیجے میں وہ آخر کار’ریاض‘ ریڈیو پر "سوالیف صغار" کے عنوان سے پروگرام پیش کرنے کی منزل تک پہنچ گیا۔

تمیم کا سفر اس سال شروع ہوا جسے وہ اور اس کے والد "پھلوں کی کٹائی کا سال" قراردیتے ہیں۔ جب کم عمر براڈکاسٹر نے پیشہ ورانہ کام شروع کیا اور کام کرنے کے عزم اور وقت پر حاضری کے لیے تنخواہ وصول کرنا شروع کی۔ وہ سونپے گئےکام کوبروقت اور ہدایت کے مطابق انجام دیتا۔ ہدایت کاری کے شعبے سے نمٹنا اور اناؤنسر کی مہارتوں سے آگاہی حاصل کرتا رہا۔

اہداف کی تقسیم

تمیم نے پیشہ ورانہ مہارت تک پہنچنے کے لیے اپنے منصوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا آغاز اہداف کی تقسیم سے ہوا تاکہ وہ ممتاز براڈکاسٹر کی تمام ضروریات پر مہارت اور تربیت کی بنیاد پر متعدد مراحل میں چھوٹے اہداف حاصل کر کے بڑے اہداف تک پہنچ سکے۔چنانچہ اس ترتیب پر چلتے ہوئے وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنے آپ کوایک پروگرام کے میزبان کے طور پر پیش کر سکے۔ اب وہ اس پوزیشن میں تھا کہ رضاکارانہ پروگرام کرسکے۔ بالغوں کے لیے ڈبنگ کرسکے اور بچوں کے لیے پروگرام کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی۔

تمیم نے اپنی شخصیت کو ایسی شجاعت قرار دیا جس نے انہیں محکمہ تعلیم جیسے اہم مقامات پر تقاریب پیش کرنے کے قابل بنایا اور وہ اپنے والد کے اعتماد اور اس میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بغیر کسی ریہرسل کے سپورٹس پارٹی پیش کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

میڈیا کے اثرات

اس نے وضاحت کی کہ میڈیا نے ان کی پڑھائی پر مثبت اثر ڈالا۔ اس نے پڑھائی کو آسانی سے اور سہولت سے دیکھنا شروع کیا اور میڈیا کے کام کے لیے خود کو وقف کرنے کے لیے اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو تیزی سے پورا کیا۔ اس کے اسکول نے اسے باصلاحیت افراد میں شامل کیا۔

تمیم الحارثی نے مزید کہا "اینکر کی کامیابی کے عوامل تربیت، کام کی پیشہ ورانہ مہارت، ہمت، خود اعتمادی، اپنے آپ کو ہر چیز کے بارے میں علم اور تجربے سے آراستہ کرنا اور کام کے اوقات کی پابندی کے علاوہ اچھے سلوک اور احترام کی بنیادی خصوصیات ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں