امریکا نے پیرکے روز شام کے ایک انٹیلی جنس افسر پر پابندی عاید کردی ہے اور اس پرالزام عاید کیا ہے کہ اس نے 2013 میں 41 نہتے شہریوں کو 'سفاکانہ اور منظم طریقے سے' قتل کیا تھا۔امریکا نے دنیا کے ممالک کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پربھی خبردار کیا ہے۔
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران میں روارکھے جانے والے مظالم میں سے دمشق کے مضافاتی علاقے تدمون میں قتل عام کا ایک واقعہ بھی تھا جہاں 16 اپریل 2013 کو اسد حکومت کے فوجی انٹیلی جنس افسر امجد یوسف نے 41 نہتے شہریوں کو قتل کر دیا تھا۔
انھوں نے اس کے شواہد کے طور پر اس ویڈیو کی طرف اشارہ کیا جو گذشتہ سال آزاد محققین کی تحقیقات کے بعد پہلی بار شیئر کی گئی تھی۔
I am taking action to hold accountable Amjad Yousef, a Syrian official involved in the April 2013 massacre of at least 41 civilians. The U.S. continues to promote justice for victims of the Assad regime and stands with the brave Syrians enduring twelve years of conflict.
— Secretary Antony Blinken (@SecBlinken) March 6, 2023
اس ویڈیو میں امجدیوسف کو درجنوں شہریوں کو اس وقت گولی مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ ایک گڑھے کی طرف بھاگتے ہیں اور اسے بعد میں آگ لگا دی جاتی ہے۔
پابندی کے تحت امجد یوسف، ان کی اہلیہ اور ان کے قریبی اہل خانہ امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے والے یا ایسا کرنے پر غور کرنے والے ممالک کوبھی انتباہ جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اس قتل عام کی فوٹیج،بے شمار شامیوں کا قتلِ عام اور ان سے ناروا بدسلوک اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ سیاسی حل کی جانب پائیدار پیش رفت کے بغیرممالک کو اسد حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پرنہیں لانا چاہییں۔
کئی عرب اور خلیجی ممالک 12 سال سے جاری جنگ کے دوران میں بشارالاسد کی مخالفت کے بعد اب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لارہے ہیں۔تاہم واشنگٹن نے شامی حکومت اور اس کے عہدے داروں پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس نے متحارب فریقوں کے درمیان پرامن حل اور سیاسی معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹونی بلینکن نے واضح کیا کہ ’’اسد حکومت کا احتساب کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے بہادرشامیوں کی ہماری جانب سے حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور ہم مظالم کے متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو انصاف دلانے اور اسد حکومت اور اس کے اتحادیوں سمیت ذمہ داروں کے احتساب کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے‘‘۔