لبنان کی طاقتورمسلح ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے عیسائی سیاست دان سلیمان بک فرنجیہ کو ملک کا صدر بنانے کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سابق صدرمیشال عون کی میعاد گذشتہ سال اکتوبرمیں ختم ہونے کے بعد سے لبنان میں کوئی سربراہ مملکت نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک میں ادارہ جاتی تعطل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وہ پہلے ہی برسوں سے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔
حسن نصراللہ نے کہا کہ ’’صدارتی انتخابات میں ہم جس فطری امیدوارکی حمایت کرتے ہیں، وہ (سابق) وزیر سلیمان فرنجیہ ہیں‘‘۔
چھپن سالہ فرنجیہ لبنان کے ایک قدیم مسیحی سیاسی خاندان کے وارث اور شامی صدر بشارالاسد کے دوست ہیں۔ان کے دادا1970 سے 1975-90 تک خانہ جنگی کے دور میں لبنان کے صدر رہے تھے۔
سلیمان فرنجیہ کو لبنانی ایوان نمائندگان کے اسپیکر نبیہ بری کی امل تحریک پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انھیں سادہ اکثریت سے منتخب ہونے کے لیے 65 ارکان کی حمایت درکارہے لیکن انھیں اتنی تعداد میں اسمبلی کے ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
وہ حزب اللہ کے قریبی اتحادی سمجھتے جاتے ہیں لیکن وہ 2016 میں لبنان کا صدر بنتے بنتے رہ گئے تھے اورحزب اللہ ان کے بجائے میشال عون کی حمایت کردی تھی۔عون کو اب پارلیمان میں 20 رکنی بلاک کی حمایت حاصل ہے لیکن انھوں نے سلیمان فرنجیہ کے بہ طور صدر انتخاب کی مخالفت کی ہے۔
معروف عیسائی سیاست دان سمیر جعجع کے زیرقیادت لببنانی فورسز پارٹی بھی ان کی مخالفت کررہی ہے۔
یادرہے کہ سلیمان فرنجیہ کے والدین اور بہن کو 1978 میں لبنانی فورسز کی ملیشیا نے ملک کے شمال میں واقع ان کے گھر پرہلاک کر دیا تھا۔فرنجیہ نے اس وقت ایل ایف کے کمانڈرسمیرجعجع کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن سمیرجعج نے اس کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ گھر پہنچنے سے پہلے ہی زخمی ہوگئے تھے۔
سنہ 2018 میں میرونائٹ پادری نے ان دونوں عیسائی لیڈروں کے درمیان مصالحت کرادی تھی۔