ایران کی جانب سے"دہشت گرد تنظیم" قرار دیے گئے چینل پر اسرائیلی وزیراعظم کا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

''اگر ایران جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست بنتا ہے تو تاریخ بدل جائے گی''، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فارسی زبان کے ایک ٹی وی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا، جسے ایرانی حکومت کی جانب سے "دہشت گرد تنظیم" کا خطاب دیا جا چکا ہے۔

''ایران انٹرنیشنل'' ٹی وی پر جمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اپنے ملک کی "تباہی کے لیے پرعزم" ایرانی حکومت کی جوہری ہتھیار رکھنے کی خواہش ناقابل فہم ہے۔

"ذرا تصور کریں کہ اگر ان کے پاس دہشت گردی کے بڑے ہتھیار ہوں، جوہری ہتھیار جن سے وہ پوری دنیا کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ اس لیے میں مغربی رہنماؤں، عالمی رہنماؤں سے کہتا ہوں: اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو تاریخ بدل جائے گی۔''

خیال رہے کہ نومبر میں، ایران کے وزیر انٹیلی جنس نے ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دیا تھا۔ نیوز اسٹیشن نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ برطانیہ کی پولیس کے مشورے پر ایران سے مبینہ خطرات پیش نظر لندن سے واشنگٹن منتقل ہو جائے گا۔

انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ " نہ صرف ایرانی عوام کی خاطر بلکہ ہماری مشترکہ سلامتی کے لیے بھی اب ضروری ہے کہ ایرانی عوام کو آزاد کیا جائے۔" "ہم اس بنیاد پرست اسلامی دہشت گرد حکومت کو عوام پر ظلم کرنے اور دنیا کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اجتماعی موت کے ہتھیار نہیں ہونے دے سکتے۔ ۔۔ ایسا ہونے سے پہلے ہمیں اسے روکنا ہو گا۔"

نیتن یاہو نے اسلامی پاسداران انقلاب کے خلاف "سخت پابندیاں" نافذ کرنے اور ایران کی جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ پھیلاؤ کے خلاف فوجی ردعمل کے لیے زور دیا۔

وا‌ضح رہے کہ اس ہفتے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کی جانب سے 84 فیصد خالصتاً افزودہ یورینیم کی پیداوار پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جو کہ نیوکلیئر بم بنانے کے لیے درکار 90 فیصد کے قریب ہے، اور ایران سے وضاحت طلب کی تھی۔

ایرانی حکومت کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے یورینیم کو 60 فیصد سے زیادہ افزودہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی سفارتی کوششیں، جس کی نیتن یاہو مخالفت کرتے ہیں، گذشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہیں۔

2015 کا معاہدہ، جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام روکنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی تھی۔ جس پر نیتن یاہو نے تنقید کی تھی۔

گروسی کے بیانات 'بالکل غلط'

نیتن یاہو نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے رواں ماہ کے آغاز میں تہران کے دورے کے دوران کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر کسی بھی فوجی حملے کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔

"(گروسی) نے بالکل غلط اور نامناسب کہا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایسی حکومت کو روکنے سے زیادہ جائز اور کوئی چیز نہیں ہے جو کھلے عام آپ کی تباہی کا مطالبہ کرتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہتھیار رکھنے کی کوشش کرتی ہے''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہوگا یا نہیں اس کا انحصار تہران حکومت پر ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک نے ایرانی حکومت، جسے انہوں نے ایرانیوں اور اسرائیلیوں کا "مشترکہ دشمن" قرار دیا، کی اصلیت ظاہر کر دی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تہران میں ایک مختلف حکومت اسرائیل اور ایران کے درمیان دوستی کا باعث بنے گی۔

ایران کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے کئی مہینوں سے جاری مظاہروں کا سامنا ہے۔

ایرانی حکام ان مظاہروں کو غیر ملکی طاقتوں، یعنی امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ "فسادات" کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں