نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے تحت قانون شکنی کی: اٹارنی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی اٹارنی جنرل غالی بہراف میارا نے جمعہ کو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کے دوران مفادات کے تصادم کو نظر انداز کر کے اور اپنی حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے میں براہ راست ملوث ہوکر قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار ایک خط میں کیا۔

اٹارنی جنرل غالی بہراف میارا کے خط نے اس عدالتی اصلاحاتی منصوبے کو درپیش رکاوٹوں میں اضافہ کیا ہے، اس منصوبے کی وجہ سے اسرائیلی معاشرے میں ایک گہری تقسیم پیدا ہوئی، ہزاروں مظاہرین سڑکوں پرنکل آئے ، معیشت کو خطرے میں ڈال دیا گیا اور دائیں بازو کے حکومتی اتحاد میں بھی دراڑیں پیدا ہوگئیں۔

عدالتی نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف مظاہروں میں شدت کے پیش نظر، نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ دیگر تمام تحفظات کو ایک طرف رکھ رہے ہیں اور حل تک پہنچنے کے لیے "جو کچھ بھی کرنا پڑے گا" کریں گے۔

جمعرات کو، کنیسٹ نے ایک قانون میں ترمیم کی جس میں کسی وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹایا جانے کے حالات کو محدود کردیا گیا۔ تاہم اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ نیتن یاہو کو عدالتی اصلاحات کے عمل سے باہر رہنا چاہیے تھا۔

انہوں نے لکھا کہ "قانونی صورتحال واضح ہے: آپ کو عدلیہ کو تبدیل کرنے کے اقدامات میں کسی بھی طرح کی شمولیت سے گریز کرنا چاہیے،"

"کل رات آپ کا بیان اور اس معاملے کی خلاف ورزی میں آپ کی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی ہے"

اس خط سے قبل بھی متعدد بار وہ کہہ چکی ہیں کہ نیتن یاہو کو عدالتی نظر ثانی کے لیے اپنے اتحاد کے دباؤ سے دور رہنا چاہیے کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ عدالتوں میں ان کے خلاف بدعنوانی کے ٹرائلز کے باعث مفادات کا تصادم پیدا ہورہا ہے۔

حکمراں لیکود پارٹی کی طرف سے ایک پیغام میں، نیتن یاہو کے قریبی ایک نامعلوم ذریعے نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کسی بھی قوانین یا مفادات کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور کہا کہ اس کا ان کے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

ذریعہ نے کہا کہ یہ وزیر اعظم پر فرض ہے کہ وہ قومی بحران کے وقت ایک وسیع اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں جس کے اندرون ملک اور بیرون ملک اثرات مرتب ہوں گے۔

انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر نے اٹارنی جنرل پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا، "اگر محترمہ بہراف میارا منتخب عہدیداروں کی جانب سے فیصلے کرنا چاہتی ہیں، تو پارٹی بنانے اور پارلیمنٹ کے لیے انتخاب لڑنے کے لیے ان کو خوش آمدید۔"

اٹارنی جنرل کے خط کے بعد، اسرائیل میں واچ ڈاگ گروپ موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ نے کہا کہ وہ توہین عدالت کے لیے ایک تحریک دائر کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ نیتن یاہو کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، جس میں بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی شامل ہے۔

نیتن یاہو کا مذہبی-قوم پرست اتحاد عدلیہ میں تبدیلیوں پر عمل پیرا ہے جس سے حکومت کو ججوں کے انتخاب میں اثر پڑے گا اور سپریم کورٹ کے قوانین کو ختم کرنے کے اختیارات کو محدود کیا جائے گا۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سپریم کورٹ کی بالادستی پر لگام ڈالے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے عدالتیں کمزور ہوں گی، شہری آزادیوں کو خطرہ لاحق ہو گا اور معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

اس مجوزہ منصوبے کے اعلان کے بعد سے ملک گیر مظاہروں کے سلسہ شروع ہوگیا جس نے اسرائیل کے مغربی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں