اسرائیل میں عدالتی اصلاحات سے متعلق قانون کا پہلا ہدف فلسطینی ہوں گے، جانئے کیسے؟

مجوزہ ترمیمی بل کا ایک مقصد پارلیمان کے ذریعے کی جانے والی قانون سازی پر سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے اختیار کا خاتمہ ہے، جس کے بعد کنیسٹ کو ججوں کی مرضی کے بغیر کوئی بھی قانون بنانے کا اختیار حاصل ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کو چند دن قبل ملک کے سب سے زیادہ خراب معاشی بحران کے بعد تناؤ کی جس کیفیت سے گذرنا پڑا، صہیونی ریاست کے لئے اس کے مضمرات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

فلسطینی قومی اقدام کے جنرل سیکرٹری مصطفیٰ البرغوثی سمجھتے ہیں ’’کہ حکومت کے مقابلے میں سپریم کورٹ کے اختیارات پر قدغن لگانے والا مجوزہ عدالتی ترمیمی بل اگر منظور ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی قیمت فلسطینی ادا کریں گے۔‘‘

پہلا نقصان فلسطینیوں کا

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے جناب البرغوثی نے کہا ’’کہ اسرائیلی سپریم کورٹ یہودی آباد کاری، مکانات مسماری اور جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت وقتا فوقتا کرتی رہتی ہے۔ یہ مقدمات فلسطینی یا ان کے کاز سے ہمدردی رکھنے والی انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیموں کی جانب سے دائر کیے جاتے ہیں۔‘‘

بدھ کے روز میڈیا پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے البرغوثی کا کہنا تھا ’’کہ اسرائیل کو اس وقت یہودی آبادکار چلا رہے ہیں۔ اسرائیلی پالیسیوں کی وجہ سے یہودی آباد کاروں کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ ان میں رہنے والے آبادکار ان دنوں اسرائیل کی ایک فاشسٹ سیاسی قوت بن کر سامنے آئے ہیں۔ انتہا پسند سوچ کے حامل 15 سیاستدان اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ’’کہ اس وقت اسرائیلی سیاست کی زمام کار قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر اور وزیر مالیات بتسلئيل سموتريتچ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ البرغوثی کے بہ قول ’’دونوں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے جانے مانے قائد ہیں۔‘‘

یہودی بستیوں کی تعمیر جاری

دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں یہودی آباد کاروں کو اسرائیل کی قوت نافذہ بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اسی ضمن میں اسرائیلی وزیر قانون یاریو لیون ممبران اسرائیلی پارلیمنٹ اور حکومت کے مقابلے میں عدالتی اتھارٹی، بالخصوص سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کے لیے امسال جنوری سے بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔

اسرائیل میں عدالتی بغاوت کا معمار

عدالتی اصلاحات کی آڑ میں بنایا جانے والا یہ قانون پبلک پراسیکیوٹر کے فیصلے کی روشنی میں وزیر اعظم کو برطرفی سے بھی بچاتا ہے۔

اس قانون کے بموجب حکومت جوڈیشل کونسل کو بائی پاس کر کے ججوں کی تقرری کا اختیار خود اپنے ہاتھ لینا چاہتی ہے۔

عدلیہ اصلاحات کے نام پر مجوزہ ترمیمی بل کا ایک مقصد پارلیمان کے ذریعے کی جانے والی قانون سازی پر سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے اختیار کا خاتمہ ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ کو ججوں کی مرضی کے بغیر کوئی بھی قانون بنانے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

جہاں تک یہودی بستیوں کا تعلق ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے عالمی تشویش کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے سے متعلق کھلے عام فیصلے کیے ہیں۔

واشنگٹن، عرب اور مغربی دارالحکومتوں کی جانب سامنے آنے والی سخت تنقید کے باوجود گذشتہ فروری میں حکومت نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے سیکٹر C میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری میں تیزی لانے کے ساتھ یہودیوں کے لیے 9,409 رہائشی یونٹس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں