'شارٹ کشنز'، لگژری، اور ماحول دوست سیاحت: راس الخیمہ میں سب کچھ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

راس الخیمہ، خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔موسمیاتی تبدیلی اور نیٹ زیرو کے تئیں متحدہ عرب امارات کے عزم کے مطابق پائیدار ترقی پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے کیونکہ یہ ملک اس سال کے آخر میں اقوام متحدہ کی کوپ 28 عالمی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔

دبئی میں عربین ٹریول مارکیٹ 2023 کے موقع پر سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں موسمیاتی تبدیلی اور نیٹ زیرو کے بارے میں، العربیہ نے منگل کو راس الخیمہ ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او راکی فلپس سے بات کی۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے راکی فلپس کا کہنا ہے کہ"ہم نے ایک سال پہلے اس "خطے کی پہلی تصدیق شدہ پائیدار منزل "بننے کا عزم کیا تھا۔ اس کے لیے ہم نے "ارتھ چیک "نامی ایک کمپنی کے ساتھ شراکت داری کی ہے جو اقوام متحدہ کے ذریعہ اپنائے گئے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ساتھ منسلک مخصوص اہداف کے حصول میں ہماری مدد کرنے کے لیے عالمی سطح پر پہچانی گئی ہے،''

راس الخیمہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت، ان کے پاس امارات بھر میں 30 کمپنیاں اور ادارے ہیں جنہوں نے ماحولیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک عہد پر دستخط کیے ہیں۔ اس میں ان تینوں عناصر کا احاطہ کیا گیا ہے جو پائیداری کو تشکیل دیتے ہیں -- چاہے وہ ثقافتی پائیداری ہو، اقتصادی پائیداری، یا ماحولیاتی پائیداری۔"


اہم سفری رجحانات، اعداد وشمار میں اضافہ

کووڈ 19 کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “کچھ چیزیں ایسی ہیں جو وبا نے ہمیں سکھائی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ دنیا میں کسی بھی جگہ پر ایک ہی وقت میں کام اور چھٹیاں گزار سکتے ہیں۔

لہذا ہم نے ایک 'ڈیجیٹل خانہ بدوش' ہجرت دیکھی جہاں لوگ ایسی جگہ تلاش کر رہے تھے جہاں وہ کام کریں، رہیں اور کھیل سکیں ، چاہے وہ طویل مدت کے لیے ہو یا مختصر وقت کے لیے۔

لوگوں نے سیکھا ہے کہ جب تک ان کے پاس لیپ ٹاپ، فون، اچھا وائی فائی ہے، وہ رابطے میں رہ سکتے ہیں اور راس الخیمہ گذشتہ چند سالوں میں اس کے لیے ایک بہترین منزل بن چکی ہے۔

قدیم ساحلوں سے لے کر ناہموار پہاڑوں ، پرتعیش ریزورٹس سے لے کر جنگل میں کیمپنگ تک، راس الخیمہ تمام مسافروں کے لیے فائدہ مند تجربات اور عیش و آرام کا وعدہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے اسے ٹائم میگزین پر 2022 کے دنیا کے عظیم ترین مقامات میں اور سی این این ٹریول کے 2022 کے بہترین مقامات میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا: "ہمارے پاس پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کے لیے مختلف اور صارفین کے مطابق متنوع خدمات ہیں۔

رہائشی پیش کشوں کے لحاظ سے، ہمارے پاس رٹز-کارلٹن، والڈورف آسٹوریہ، انٹر کانٹینینٹل جیسے اوبر لگژری ہوٹل ہیں، درمیانی درجے کے برانڈز، جیسے ریڈیسن، ہیمپٹن از ہلٹن، اور یہاں تک کہ ہماری شاندار پیشکشیں، یا لانگ بیچ کیمپ گراؤنڈ ، بنان بیچ کیمپنگ ریزورٹ بھی ہیں "


فلپس نے بورڈ میں آنے والے نئے ہوٹلوں کے بارے میں بھی بات کی۔ "ہمارے پاس اننتارا اور میناء العرب اور سوفیٹل بھی ہیں۔ اور اگلے سال، ہمارے پاس ویسٹن بھی کھل رہا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جب لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور فطرت کے ساتھ ایک ہونا چاہتے ہیں تو راس الخیمہ سب سے پہلے ان کے ذہن میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راس الخیمہ کے لیے، سی آئی ایس مارکیٹ ایک بڑی مارکیٹ ہے۔

"جرمنی، برطانیہ، ہندوستان، قازقستان میں ہماری مارکیٹ ترقی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

لیکن ہم نے اور بھی نئی مارکیٹوں پر بھی بہت زیادہ توجہ مرکوز کی ہے جیسے کہ خلیجی ممالک اسی طرح پولینڈ اور چیک ریپبلک وہ منڈیاں ہیں جو پچھلے کچھ سالوں میں کافی بڑھی ہیں۔ اسی طرح ہمارے لیے یہ اولین ترجیح ہے۔"

چند ماہ قبل امارات نے اعلان کیا تھا کہ قطر ایئرویز براہ راست راس الخیمہ کے ہوائی اڈے پر پرواز کر رہی ہے، جو بڑی خبر تھی۔ "اور اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ فیڈر مارکیٹیں کہاں آ رہی ہیں تاکہ ہم اس کی طرف توجہ مرکوز کر سکیں۔"

ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اتھارٹی کے سی ای او متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی کو کریڈٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ''متحدہ عرب امارات کو ایک ترقی پسند قوم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بہت کاروبار دوست ہے، جو محفوظ ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ آپ عالمی سطح پر اس سے بہتر مقام تلاش کر سکتے ہیں جس نے ویزا کی پابندیوں میں نرمی کی ہو، آمد پر ویزا وغیرہ کی اجازت دی ہو۔

انہوں نے راس الخیمہ اکنامک زون کی مثال پیش کی جہاں آپ بہت جلد وقت میں کمپنی قائم کر سکتے ہیں۔ جس نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔"

دیگر بڑی مارکیٹوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، فلپس نے کہا: "ہندوستان ہماری توجہ کا مرکز ہے کیونکہ یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے اور یہ مسلسل پھیل رہی ہے، ہندوستانی شادیاں بہت بڑے معاملات ہیں۔

ہندوستانی جو گرمیوں میں چھٹیاں گزارنا چاہتے ہیں، وہ راستے الخیمہ کے لیے پرواز کر سکتے ہیں اور پھر یہاں سے دوسری مقامات پر جا سکتے ہیں۔ ہم نے ہندوستان سے آنے والی ایئر لفٹ پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس کے لیے کئی ایئر لائنز کے ساتھ کام کر رہے ہے۔"

مختصر قیام کی کامیاب مہم

ملکی سطح پر، راس الخیمہ کچھ سالوں سے ایک پسندیدہ سیاحتی مقام بن گیا ہے۔ فلپس نے کہا، "مقامی مارکیٹ ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔ "جب آپ امارات میں کسی ایسی جگہ کے بارے میں سوچتے ہیں جہاں آپ تفریح کے لیے مختصر قیام کر سکتے ہیں -- جسے ہم 'شارٹ کشن' کہتے ہیں -- خصوصا دوسرے امارات سے بہت کم فاصلے کی وجہ سے، کوئی دوسری جگہ راس الخیمہ کا متبادل نہیں۔

جبل جیس متحدہ عرب امارات کا سب سے اونچا پہاڑ

جیبل جیس تک پیدل سفر کرنے والوں کے لیے "ہم نے اپنے ہائیکنگ ٹریلز میں زبردست اضافہ کیا ہے، ایک نئی سڑک بنائی گئی ہے جس نے پہاڑ پر جانے کا وقت نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔"

"فطرت کا تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ہمارا مقصد رہا ہے ، پیدل سفر کے راستے بالکل ناقابل یقین ہیں اور اس طریقے سے بنائے گئے ہیں جہاں وہ واقعی فطرت کے ساتھ مربوط ہیں۔"

اس سوال کے جواب میں کہ وبا کے دنوں کی سست روی کیا سیکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بروقت سمارٹ فیصلے کرتے ہیں، تو آپ بہت تیزی سے بحالی اور زیادہ مثبت اثر دیکھ سکتے ہیں۔

“لہٰذا جب وبائی مرض کا شکار ہوا، ہمارے پاس ایک محرک پیکج تھا جس سے واقعی کاروبار کو بڑھانے میں مدد ملی۔

ہم نے ڈومیسٹک مارکیٹ پر توجہ مرکوز کی، جہاں وبا سے پہلے کی مارکیٹ ہمارے مجموعی کاروبار کا 40 فیصد سے بھی کم تھی۔ کرونا کے دوران، ہم نے سیاحوں کی تعداد کو دوگنا کردیا اور یہ آج بھی ہمارے بڑے فوکس میں سے ایک ہے۔

2030 تک 5 ملین زائرین کا ہدف

پچھلے سال، راس الخیمہ نے ایک سیاحتی منزل کے طور پر 1.1 3 ملین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، جو کہ وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ تھا۔ "لہذا ہم عالمی سطح پر تیزی سے بحالی کی جانب بڑھنے والی منزلوں میں سے ایک تھے۔ لیکن جب ہم اس سال اپنے ایک سہ ماہی کے نتائج کو دیکھتے ہیں، تو ہم گزشتہ سال سے 13 فیصد آگے ہیں۔

انہوں نے کہا "لہذا میں کافی پر امید ہوں کہ ہم سال کے آخر تک 1.2 ملین سیاحوں کے ہدف تک پہنچنے کے قابل ہونے کے راستے پر ہیں۔ اور عشرے کے اختتام تک، ہم آسانی سے 5 ملین سے زیادہ سیاحوں بن کو راغب کر سکتے ہیں۔

سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے، انہوں نے کہا کہ اتھارٹی "یقینی طور پر جبل جیس پر مزید پرکشش مقامات کو تیار کر رہی ہے۔

ہم اپنے ثقافتی مقامات کے تحفظ اور بحالی پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس چار سائٹس ہیں جو یونیسکو کے ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔ اور پھر ظاہر ہے المرجان جزیرے پر ہوٹلوں اور پرکشش مقامات کی ترقی بھی ہمارا مقصد ہے۔

فلپس نے کہا کہ ایک اور اہم چیز جس پر ہم توجہ مرکوز کر رہے ہیں وہ قابل رسائی سفر تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ عالمی سطح پر سالانہ 8 بلین ڈالر کا کاروبار ہے۔

ہم اسے ہر طرح کی ضروریات والے لوگوں کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں