جدہ عدالت کے دو اہلکار رشوت وصول لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں کیسے گرفتار ہوئے، دیکھیے!

ملزم نے اپیل کورٹ میں کیس کی کارروائی کرانے اور عدالتی فیصلہ ختم کرانے کے لیے مقامی شہری سے 5 لاکھ ریال رشوت کے طور پر طلب کیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن نے جدہ میں رشوت لینے کے الزام میں جنرل کورٹ کے 2 اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

اینٹی کرپشن کمیشن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایمن عبدالرزاق محمد صلواتی کو ڈھائی لاکھ ریال رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔

صلواتی جدہ جنرل کورٹ میں چھٹے گریڈ کا ملازم ہے۔ اس نے اپیل کورٹ میں کیس کی کارروائی کرانے اور عدالتی فیصلہ ختم کرانے کے لیے مقامی شہری سے 5 لاکھ ریال رشوت کے طور پر طے کیے تھے۔ عدالت کی جانب سے مقامی شہری پر 73 لاکھ 17 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

اینٹی کرپشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جدہ جنرل کورٹ کے دفتر کے ڈائریکٹر علی محمد احمد الدوقی کو رشوت کیس میں گرفتار کیا گیا۔

ملزم نے مذکورہ کیس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سوا لاکھ ریال رشوت کے طور پر وصول کرنے تھے۔

اینٹی کرپشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایمن نے رشوت کی رقم وصول کی تھی اور اس سلسلے میں علی الدوقی کےساتھ تمام معاملات طے کر لیے تھے۔ رشوت کی رقم میں سے اسے ایک لاکھ 25 ہزار ریال علی الدوقی کو دینے تھے۔

سعودی عرب میں رشوت ستانی

اینٹی کرپشن کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ مفاد عامہ کو نقصان پہنچانے یا نجی مفاد حاصل کرنے کے لیے جو شخص بھی بدعنوانی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

مالی اور محکمہ جاتی بدعنوانی کے کیسز کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوتے طویل مدت گزر جانے کے باوجود ریکارڈ سامنے آجانے پر بدعنوانوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں