جدہ عدالت کے دو اہلکار رشوت وصول لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں کیسے گرفتار ہوئے، دیکھیے!
ملزم نے اپیل کورٹ میں کیس کی کارروائی کرانے اور عدالتی فیصلہ ختم کرانے کے لیے مقامی شہری سے 5 لاکھ ریال رشوت کے طور پر طلب کیے تھے
سعودی عرب میں کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن نے جدہ میں رشوت لینے کے الزام میں جنرل کورٹ کے 2 اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
اینٹی کرپشن کمیشن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایمن عبدالرزاق محمد صلواتی کو ڈھائی لاکھ ریال رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔
صلواتی جدہ جنرل کورٹ میں چھٹے گریڈ کا ملازم ہے۔ اس نے اپیل کورٹ میں کیس کی کارروائی کرانے اور عدالتی فیصلہ ختم کرانے کے لیے مقامی شہری سے 5 لاکھ ریال رشوت کے طور پر طے کیے تھے۔ عدالت کی جانب سے مقامی شہری پر 73 لاکھ 17 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
#نزاهة.. مباشرة قضية رشوة واستغلال نفوذ وظيفي من قبل موظفين بالمحكمة العامة في #جدة مقابل الحصول على 250 الف ريال #السعودية pic.twitter.com/1ukVStvi2k
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) May 18, 2023
اینٹی کرپشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ جدہ جنرل کورٹ کے دفتر کے ڈائریکٹر علی محمد احمد الدوقی کو رشوت کیس میں گرفتار کیا گیا۔
ملزم نے مذکورہ کیس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سوا لاکھ ریال رشوت کے طور پر وصول کرنے تھے۔
اینٹی کرپشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایمن نے رشوت کی رقم وصول کی تھی اور اس سلسلے میں علی الدوقی کےساتھ تمام معاملات طے کر لیے تھے۔ رشوت کی رقم میں سے اسے ایک لاکھ 25 ہزار ریال علی الدوقی کو دینے تھے۔
اینٹی کرپشن کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ مفاد عامہ کو نقصان پہنچانے یا نجی مفاد حاصل کرنے کے لیے جو شخص بھی بدعنوانی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
مالی اور محکمہ جاتی بدعنوانی کے کیسز کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوتے طویل مدت گزر جانے کے باوجود ریکارڈ سامنے آجانے پر بدعنوانوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔