سعودی عرب کی انتہاپسند اسرائیلی وزیر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے کے دورے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز ایک انتہا پسند اسرائیلی وزیر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے کے دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات تمام بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی علامت ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت ان خلاف ورزیوں کے تسلسل پر نتائج کے لیے اسرائیل کی قابض افواج کو مکمل طور پر ذمے دار ٹھہراتی ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن غفیر نے اتوار کی صبح مسجد اقصیٰ کے احاطے کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے کہا:’’مجھے ٹیمپل ماؤنٹ پر چڑھنے کی خوشی ہے۔ یہ اسرائیلی عوام کے لیے سب سے اہم جگہ ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا:’’حماس کی طرف سے تمام دھمکیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ہم یروشلم اور اسرائیل کی پوری سرزمین کے انچارج ہیں‘‘۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان کا یہ ایک اور شرانگیز اور متنازع اقدام ہے۔انھوں نے گذشتہ ماہ بھی مسجدِ اقصیٰ کا متنازع دورہ کیا تھا اور شرانگیز بیانات دیے تھے۔انھوں نے ہزاروں یہودی قوم پرستوں کے مقبوضہ بیت المقدس کے شہرِ قدیم میں مارچ اور غزہ کی نازک جنگ بندی کے صرف ایک ہفتے بعد یہ اشتعال انگیز حرکت کی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے اور اردن کے زیرِ انتظام ہے۔غیر مسلموں کو اس مقام پر جانے کی اجازت ہے، لیکن انھیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کو یہود بھی اپنے لیے سب سے مقدس مقام قراردیتے ہیں اور وہ اس کے نیچے مغربی دیوار پر عبادت اورگریہ و زاری کرتے ہیں۔

یہودی قوم پرستوں کی اس مقام پر آمدکو فلسطینیوں اور عرب ممالک کی جانب سے طویل عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بن غفیر کے دسمبر میں وزارت سنبھالنے کے بعد سے ان کے دوروں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں