تقریباً دو ہفتے قبل مصر کی سرحد پر ایک مصری سکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے تین اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنی تحقیقات کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔
اس نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مصری فوجی نے سرحد پار سے دراندازی کی اور اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی۔
تعزیری اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ مصری فوجی اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
مصر کے ساتھ سرحد پر دراندازی کے واقعے کے بعد متعدد افسران کے خلاف تعزیری اقدامات کیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک اسرائیلی فوجی وفد نے گذشتہ اتوار کو قاہرہ کا دورہ کیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے بتایا کہ وفد میں اسرائیلی فوج کے جنوبی علاقے کے کمانڈر ایلیزر ٹولڈانو، بین الاقوامی تعلقات بریگیڈ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ایوی ڈیورین اور ایکٹیویشن بریگیڈ کے سربراہ، انٹیلی جنس ایجنسی کے چیف شامل تھے۔
ادرعی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں مصری فوج کے حکام کے ساتھ مشترکہ تحقیقات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی افواج نے سرحدی جھڑپ کے واقعے کی باریک بینی سے تحقیقات کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
"غیر محفوظ سرحدیں"
ایک متعلقہ سیاق و سباق میں اسرائیلی فوج کی ملٹری سدرن کمانڈ کے اہلکاروں نے اعتراف کیا کہ مصر کے ساتھ سرحد کو خاطر خواہ طور پر محفوظ نہیں بنایا گیا تھا اور وہاں کے فوجیوں پر 12 گھنٹے تک براہ راست گارڈ شفٹوں کا بوجھ ہے، جو کہ جسمانی اور عسکری طور پر تھکا دینے والا عمل ہے۔
جب کہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج نے اسرائیلی فوج میں ناکامیوں کا ایک سلسلہ ظاہر کیا اور ان کی طرف توجہ دلائی۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ دو رنگروٹ واقعے کے دوران فائرنگ کی آواز سننے سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر تھے۔ انہوں نے رپورٹ نہیں کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ آواز ہوا کی ہوسکتی ہے۔
چند روز قبل عبرانی چینل 12 نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے سرحد پر موجود فوجی دستے جسے "فہد" کے نام سے جانا جاتا ہے کی جگہ "دی ایلیٹ" نامی ایک اور بٹالین کو تعینات کیا گیا ہے۔
مقتول مصری اہلکار کی قاہرہ میں تدفین
اس حادثے کو انجام دینے والے 23 سالہ فوجی محمد صلاح کی لاش مصر کے حوالے کردی گئی تھی جسے بعد ازاں قلیوبیہ کے طوخ سینٹر کے گاؤں العمار میں اس کے خاندان کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔
مصر اور اسرائیل کی سرحد عموما پرامن ہی رہتی ہے اور یہاں پر فائرنگ کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں مصری فوج نے سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشتبہ منشیات اسمگلروں کا تعاقب کیا تھا۔
سرکاری مصری ورژن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی اہلکار متعدد منشیات اسمگلروں کا پیچھا کر رہا تھا۔ اس نے اسرائیلی سرحد عبور کی اور پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
-
اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک مصری اہلکار سپرد خاک، جنازے میں چند افراد کی شرکت
ہفتے کی شام مصر اور اسرائیل کی سرحد پر ایک جھڑپ میں مارے جانے والے مصری بارڈر ...
مشرق وسطی -
سرحدی جھڑپ میں اسرائیل کی جوابی فائرنگ کا نشانہ بننے والے مصری فوجی کی لاش واپس
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز مصر اور اسرائیل کی سرحد پر ...
مشرق وسطی -
مصر اور اسرائیل کے درمیان باڑ میں خلا کی تصویر، کیا مصری فوجی نے یہاں سے دراندازی کی؟
مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی جھڑپ کے بعد غلط خبروں ، تصاویر اور ویڈیوز کا بھی ...
بين الاقوامى -
تین اسرائیلی فوجیوں کو قتل کرنے والا مصری فوجی کون ہے؟
مصر اور اسرائیل کی سرحد پر دو روز قبل ہونے والی فائرنگ کے نتیجے تین اسرائیلی ...
مشرق وسطی