سعودی عرب کے’الاخباریہ‘ ٹی وی چینل کے مطابق کل جمعرات کوحجاج کرام کے شہر جدہ میں حکام نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حجاج کے لیے طریقہ کار کو مکمل کرنے میں صرف 20 منٹ لگتے ہیں۔ صنعاء کے ہوائی اڈے سے جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے تک باقی بحری اور بری گذرگاہوں کی طرز پر یمنی عازمین حج کا استقبال کیا گیا اور انہیں تمام ممکنہ سہولیات دی گئیں۔
قبل ازیں یمن کی قومی فضائی کمپنی یمنی ایئرویز کی پہلی حج پرواز 17 جون بروز ہفتہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے عازمین کو لے کر سعودی عرب روانہ ہوگی۔
مدينة الحجاج في جدة لـ #الإخبارية: 20 دقيقة مدة إنهاء إجراءات ضيوف الرحمن في المطار#الإخبارية_عاجل
— الإخبارية عاجل (@EKH_brk) June 15, 2023
یہ بات یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں بتائی ہے۔یمن کے دارالحکومت صنعاء پر 2014 سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا قبضہ ہے۔اس کو واگزار کرانے کے لیے عرب اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے مداخلت کی تھی۔
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کی اس خواہش پرمبنی ہے جس کے تحت وہ جنگ زدہ ملک کے مختلف حصوں سے یمنیوں کو فریضۂ حج کی ادائی کے لیے مملکت میں لانا چاہتا ہے۔
بیان کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یمن کے عازمین حج کو صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے تک تمام مسلمان اور عرب ممالک کے عازمین کو حج کی ادائی کے لیے سہولت کا حصہ ہے۔