تل ابیب میں فلسطینی کے کارچڑھانے اورچاقوزنی کے حملے میں 8 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تل ابیب میں منگل کے روز ایک فلسطینی نے ایک پک اپ ٹرک کو پیدل چلنے والوں چڑھا دیااور اس کے بعد چاقو سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے اس 20 سالہ فلسطینی نوجوان کو ایک مسلح شہری نے گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔

اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کا کہنا ہے کہ وہ بغیر اجازت نامے کے ملک میں داخل ہوا تھا اور ان کے پاس اس کے سکیورٹی سے متعلق جرائم کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔

حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ کارحملہ کرنے والا فلسطینی نوجوان اس کا رکن تھا اور اس نے مغربی کنارے کے قصبے جنین میں اسرائیلی فوج کی جاری کارروائی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل کے تجارتی دارالحکومت میں حملہ کیا تھا۔جنین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے علاوہ مقامی مسلح افراد کے ساتھ جھڑپوں میں 10 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب میں یہ بہادرانہ آپریشن جنین میں جاری صہیونی فوج کے قتل عام، قابض افواج کی کارروائی کے نتیجے میں فلسطینیوں کی نقل مکانی، قتل وغارت گری اور تباہی کے جرائم کے جواب میں اپنے دفاع میں کارروائی ہے۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پک اپ ٹرک تیز رفتاری سے ایک مال کے باہر فٹ پاتھ اور سائیکل لین پر چڑھ رہا ہے اور دو افراد کو ٹکر مار رہا ہے۔ ڈرائیور کو کھڑکی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، وہ کیفے جانے والے ایک شخص پر چاقو سے حملہ کر رہا ہے اور ہاتھ میں چاقو لے کر دوسرے لوگوں کا پیچھا کر رہا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ جہاد اسلامی کے ایک سینیر عہدہ دار خالد البطش نے اس حملے کی تعریف کرتے ہوئے اسے’’جنین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے خلاف مزاحمت کا ابتدائی اور فطری جواب‘‘قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی ایمبولینس سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ آٹھ مجروحین میں سے بعض کو چاقو کے وار سے زخم آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں