تل ابیب کے پولیس چیف امی ایشد نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے اراکین کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جو حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
اپنے بیان میں ، تل ابیب کے ضلعی کمانڈر امی ایشد نے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین غفیر کا نام نہیں لیا جنہوں نے جنہوں نے عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی حکومت کی متنازعہ کوششوں کے خلاف بے مثال مظاہروں میں سڑکوں اور شاہراہوں کو بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ایشد کے اعلان کے فوراً بعد، سینکڑوں مظاہرین نے تل ابیب سے مارچ کیا، اسرائیلی پرچم لہرائے اور "جمہوریت" کے نعرے لگائے۔ کچھ نے ایک بڑی شاہراہ کو بند کر دیا، آگ لگا دی، اور نصب پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔
ایک ٹیلیویژن بیان میں، ایشد نے کہا کہ وہ ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکتے جسے انہوں نے "وزارتی منصوبہ" کہا، اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تمام اصولوں کو توڑ دیا گیا تھا اور پیشہ ورانہ فیصلہ سازی میں کھلم کھلا مداخلت کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "میں غیر معقولی طاقت کا استعمال کرکے ان توقعات کو آسانی سے پورا کر سکتا تھا لیکن یہ ہر احتجاج کے اختتام پر اچیلوف (تل ابیب ہسپتال) کے ایمرجنسی روم کو بھر دیتا ۔"
انہوں نے کہا، "تین دہائیوں کی خدمت میں پہلی بار میں نے ایک ایسی مضحکہ خیز حقیقت کا سامنا کیا جس میں امن و امان کو یقینی بنانا مجھ سے مطلوب نہیں تھا بلکہ بالکل اس کے برعکس تھا۔"
اس پر ردعمل میں ، ایتمار بن غفیر نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایشد نے ایک خطرناک حد عبور کر لی ہے۔
سخت گیر بن غفیر جن کو ماضی میں دہشت گردی اور اشتعال انگیزی کے الزامات کا سامنا رہا ہے، نے پہلے بھی پولیس فورس پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جب انہیں اس کے نگران وزیر کے طور منتخب کیا گیا، جس سے پولیس کی آزادی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔
اپنے کچھ ایسے خیالات سے دستبردار ہونے کے بعد، بین گویر نے گذشتہ دسمبر میں نیتن یاہو کے نئے اتحاد میں شمولیت اختیار کی، جس سے اندرون اور بیرون ملک آزادی پسندوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔
جیوش پاور پارٹی تب سے پولیس کو مظاہرین کے ساتھ سخت برتاؤ کرنے پر سرزنش کر رہی ہے۔
نیتن یاہو کے قومی مذہبی اتحاد کے دیگر ارکان نے بن غفیر کے بیانات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہے جو جنوری سے ہر ہفتے تل ابیب کی سڑکوں کو بھرتے رہتے ہیں، اس کے مقابلے میں وہ پولیس کی جانب سے آباد کاروں اور مذہبی مظاہرین کے ساتھ اتنا ہی سخت سلوک دیکھتے ہیں۔
-
سیاسی احتجاج میں وردی پہننے پر اسرائیلی فوجی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
اسرائیلی فوج کے ایک افسر کو اتوار کے روز سیاسی مظاہرے میں وردی پہن کر شرکت کرنے پر ...
مشرق وسطی -
پارلیمنٹ کے نئے اجلاس سے قبل اصلاحات پر اسرائیلیوں کا احتجاج
اسرائیلی حکومت کے متنازعہ عدالتی اصلاحات کے منصوبوں کے خلاف ہفتے کے روز تل ابیب ...
مشرق وسطی -
اسرائیل میں حملوں کے باوجودنیتن یاہو کی عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج جاری
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے سپریم کورٹ پرکنٹرول سخت کرنے کے منصوبے ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی وزیراعظم نے بڑے پیمانے پراحتجاج کے بعدمتنازع عدالتی بل مؤخرکردیا
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کے سخت منصوبہ پر فیصلہ اگلے ...
مشرق وسطی