اسرائیل میں مظاہرے جاری، عدالتی ترامیم کے منصوبے میں ایک بڑا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی کنیسٹ کی ایک کمیٹی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے اس متنازع منصوبے کے خلاف مظاہروں میں اضافے کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے پیش کردہ عدالتی اصلاحات کے منصوبے میں ایک اہم اقدام کی منظوری دے دی ہے۔

"معقول شق"

پارلیمانی جسٹس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے "سات کے مقابلے میں نو اراکین کی اکثریت سے" "معقولیت کی شق" کی منسوخی کی منظوری دی۔

"معقولیت کی شق" اسرائیل میں عدالتی نظام اور خاص طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے دستیاب طریقہ کار میں سے ایک ہے۔

عدالتی نگرانی

اس شق کے ذریعے سپریم کورٹ حکومت اور اس کی وزارتوں اور اس سے منسلک سرکاری اداروں کی نمائندگی کرنے والے ایگزیکٹو اتھارٹی کی مختلف شاخوں پر عدالتی کنٹرول کا استعمال کرتی ہے۔

حکومت کے اصلاحاتی منصوبے کے خلاف جنوری میں شروع ہونے والے مظاہرے، شدت اختیار کر گئے ہیں۔

اگر اگلے ہفتے کنیسٹ سے منظور ہو گیا تو یہ بل قانون بن جائے گا.

سرکاری دفاتر کے باہر احتجاج

مظاہروں کے منتظمین نے تصدیق کی کہ مظاہرین جمعرات کی صبح ساحلی شہر حیفا (شمال) میں سرکاری دفاتر کے باہر جمع ہوئے جبکہ تل ابیب میں ہونے والےایک مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

اصلاحاتی منصوبے کی وجہ سے تقسیم کی کیفیت پیدا ہوئی ہےاور اسرائیل میں بڑے بڑےمظاہرے ہوئے ہیں۔

عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی واشنگٹن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں