بن گویر کے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی شدید مذمت کرتے ہیں: امارات

خلیجی ریاستوں اور دیگر اسلامی ملکوں نے بھی قبلہ اول پر یہودی آباد کاروں کی دراندازی کی مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب اور دیگر مشرق وسطیٰ اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی مذمت کی ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے وزیر پر تنقید کرتے ہوئے یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے بین گویر کی مذمت کی ہے۔ پہلے سے ہی نسل پرستانہ موقف پر مبنی بیانات دینے والے بن گویر نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا تھا۔

یو اے ای نے تیسرے مقدس ترین اسلامی مقدس مقام کے لیے حفاظتی اقدامات کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ تشدد کو روکنے اور خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھانے سے گریز کیا جائے۔

وزارت نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق مسجد اقصی پر اردن کے حفاظتی کردار کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارت نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے امور کا انتظام کرنے والی یروشلم انڈومنٹ ایڈمنسٹریشن کے اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے ان تمام طریقوں کو مسترد کر دیا ہے جو بین الاقوامی قانونی حیثیت کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور مزید کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہو کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل کے لیے خطرہ بننے والے ہر عمل کی مخالفت کی جائے گی۔

امارات معمول کے مطابق اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو فلسطینیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں یا تنازعہ زدہ ملک میں بدامنی پھیلاتے ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات 2020 میں ابراہیم معاہدے پر دستخط کے بعد سے بڑھ گئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے سفارتی تعلقات بھی قائم کرلئے ہیں۔

واضح رہے سعودی عرب، اردن، قطر، عمان، ترکی، مصر، پاکستان اور عرب لیگ نے بھی بن گویر کے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی شدید مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں