دردناک سانحہ، مکان میں آتش زدگی سے گھر میں چارننھے حقیقی بہن بھائی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء میں ایک گھر میں آتش زدگی کے سانحے کے نتیجے میں گھر میں سوتےہوئے چار بچے دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی ہر طرف صدمے کی لہر دوڑ گئی۔

الاحساء گورنری کے العمران شہر میں پیش آنے والے اس کربناک واقعے کے موقعے پرفوت ہونے والے بچوں کے والدین گھر پر نہیں تھے۔ سعودی عرب کے شہریوں کی طرف سے اس المناک سانحے پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل جسٹس کلب میں فینسنگ کوچ علی بن ابراہیم العبید کے گھر میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ان کے چار بچے جن کی عمریں ایک سے 10 سال کے درمیان تھیں جاں بحق ہوگئے۔

فوت ہونے والوں میں 10 سالہ ھبہ، 9 سالہ حسین، دوسالہ لیان اورایک سالہ 1 سالہ رھف شامل ہیں۔ آگ گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی، پھر یہ دوسری منزل تک پھیل گئی۔

فوت ہونے والے بچوں کے والد نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ آگ پہلی منزل پر شارٹ سرکٹ وجہ سے لگی۔ آگ لگنے سے بچوں کا نیند کے دوران دم گھٹنے لگا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس المناک واقعے پر بچوں کے والدین صدمے سے نڈھال ہیں۔

سعودی فینسنگ فیڈریشن نے "ٹوئٹر" پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے کوچ علی العبید سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئےاس ناگہانی مصیبت پر دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی بیان میں فیڈریشن نے بچوں کی مغفرت اور لواحقین کے لیے جلد صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین نے فینسنگ ٹیم کے کوچ سے ان کے چاروں بچوں کے انتقال پر دلی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور انہیں صبر و جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔

الاحساء میں شہری دفاع کی ٹیموں نے اعلان کیا کہ ابو ثور گاؤں کے ایک گھر میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے جنہیں ضروری طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں