سعودی عرب کے یونیورسٹی کے پندرہ طلباء نے برطانیہ کی مشہور زمانہ آکسفورڈ مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیمی پروگراموں کا پیکیج حاصل کرنے کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
طلباء کو سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی "سدایا" کی جانب سے شروع کیے گئے مصنوعی ذہانت کے سمرکیمپ میں تربیت دی جا رہی ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے۔ اس تربیتی پروگرام کو سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی‘(سدایا‘ اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کوسٹ نے لیڈی مارگریٹ ہال کالج کے سمر پروگرام کے تعاون سے برٹش یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ہیڈ کوارٹر میں شروع کیا تھا۔
سعودی عرب کی مختلف یونیورسٹیوں سے اعلیٰ معیار کے مطابق نامزد ہونے والے طلباء کو مصنوعی ذہانت کے شعبوں سے متعلق تعلیمی پروگراموں کا ایک پیکج ملتا ہے تاکہ ان جدید تکنیکی شعبوں میں 8 ہفتوں کی مدت میں ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کا پروگرام ثول میں ’کوسٹ‘ یونیورسٹی کے موجودہ پروگرام کے ساتھ شامل کیا گیا ہے ، جس میں انڈر گریجویٹ طلباء ہائی اسکول کے طلباء تربیتی مدت مکمل کرنے کے بعد اپنی ٹریننگ جاری رکھ سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ کیمپ "سدایا" اور "کوسٹ" کی طرف سے انڈرگریجویٹ اور سیکنڈری طلباء کے لیے کوسٹ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے کیمپز کے درمیان شروع کیے گئے تین کیمپوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد نیچرل لینگویج پروسیسنگ میں ان کی مہارتوں کو بڑھانا ہے اور گرافیکل انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے بارے میں سکھانا ہے۔
ان کیمپوں کا مقصد ’سدایا‘ کی کوششوں کا حصہ ہے جس میں انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور جدید ترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں خصوصی پروگراموں کے ذریعے آج کی نسل کو ضروری علم اور مہارت فراہم کرنا ہے۔