لبنان کے وزیر دفاع موریس سلیم نے جمعرات کو کہا ہے کہ بیروت کے مشرق میں جسر الباشا کے علاقے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ ہیں اور خیریت سے ہیں۔
نگراں حکومت میں وزیر دفاع کے بیانات ایک مقامی چینل پر اس خبر کے گردش کرنے کے بعد آئے جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے گولیاں ماری گئی ہیں۔
مقامی "ایم ٹی وی" چینل کو ایک فون کال میں میں موریس سلیم نے کہا کہ "میں ٹھیک ہوں، لیکن میری گاڑی کی پچھلی کھڑکی گولیوں کی زد میں آ گئی تھی۔"
میڈیا نے ان کی گاڑی کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو گاڑی پر گولیاں لگنے کے بعد وزیر دفاع ٹھیک ہیں۔
قاتلانہ حملے کی تفصیلات
خیال رہے کہ کل جمعرات کو لبنانی وزیر دفاع موریس سیلم اس وقت قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے جب مشرقی بیروت میں ان کی کار پر نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں چلائی تھیں۔
قاتلانہ حملہ جسر الباشا کے علاقے میں کیا گیا۔ لبنان کے ایک فوجی ذریعے نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا کہ وزیر دفاع کی گاڑی پر گولی ماری گئی ہے۔
وزیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کیونکہ لبنانی میڈیا نے ان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں، لیکن ان کی گاڑی پر گولی ماری گئی اور اس کی پچھلی کھڑکی کو نشانہ بنایا گیا۔
العربیہ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیموں نے لبنانی وزیر دفاع کے قافلے پر حملے کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ایک سینیر سکیورٹی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دو گولیاں نگراں وزیر کی گاڑی کو لگیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لبنانی فوج کے سینیر اہلکار نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وزیر کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔