اصلاحات نہ کی گئیں تو ایران کا موجودہ نظام زیادہ دیر نہیں چلے گا: محمد خاتمی

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کی طرف سے نظام کی کمزوریوں اور نقائص کی نشاندہی پربنیاد پرست حلقے سخت برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے سابق صدر اور ملک کے جہاں دیدہ سیاست دان اصلاح پسند محمد خاتمی نے ایرانی رجیم کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نظام کے سقوط کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے حکام سے طرز حکمرانی پر نظر ثانی کرنے اور آئین میں ناگزیر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کہا کہ اگر ضروری تبدیلیاں نہ کی گئیں تو رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی ختم نہ کی گئی ایرانی نظام کا سقوط ہوسکتا ہے۔

خاتمی نے طرز حکمرانی اور ملک کی "توانائیوں اور صلاحیتوں کے ضیاع" پر کڑی تنقید کی اور سیاسی اشرافیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی تکالیف کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کا یہ انتباہی بیان ملک کے قدامت پسند حلقوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہورہا۔ انہوں نے محمد خاتمی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر ملک کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔

خیال رہے کہ محمد خاتمی 8 سال (1997-2005) تک ایران کے صدر رہے۔ہے۔ انہوں نے شاہ کے دور میں سیاسی قیدیوں کے ایک گروپ سے بات چیت
بھی کی تھی۔

صلاح کی ضرورت پر زور

محمد خاتمی نے کہا کہ "ہمیں انقلاب پر افسوس نہیں ہے اور ہم اسلامی جمہوریہ کے خلاف ہرگز نہیں لیکن جو کچھ اب ہو رہا ہے وہ اسلامی جمہوریہ کی اقدار، روایات اور اصولوں سے لگا نہیں کھاتا۔ ایک بار پھر میں حکمراں نظام کی "خود اصلاح" کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی حکومت سے اسلام، عوام اور ایران کو نقصان پہنچے گا اور ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

خاتمی نے استفسار کیا کہ متوسط طبقہ کہاں ہے جو معاشرے کی ترقی کے لیے انجن سمجھا جاتا ہے۔اس کا کچھ حصہ غریب طبقے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس میں سے کچھ ہجرت کر گئے اور باقی مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ غلام نہیں ہوتے، ایسے شخص کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنا چاہیے، جو کام کر سکے اور عوام کے مطالبات پورے کرے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس طاقت ہے اور حالات ویسے ہی ہیں، تو آپ کیوں؟ اسلام کے نام پر ایسا کر رہے ہو؟"

خاتمی نے کہا کہ "اگر لیڈر شپ ماہرین کی اسمبلی اپنی صحیح پوزیشن پر ہے تو اس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کی تقرری اور برطرف اور اس کی کارکردگی اور ان سے منسوب اداروں کی نگرانی کرنا ہوگی۔" انہوں نے مزید کہا کہ گارڈین کونسل کو یقینی بنانا چاہیے کہ لوگوں کے ووٹ چوری نہ ہوں"۔

خاتمی نے کہا کہ گورننگ باڈی "جس کا مقصد ترقی، بہبود، انصاف فراہم کرنا ہے میں نے پہلے کہا تھا کہ جب تک خود اصلاح نہ ہو، تمہارا انجام ناگزیر رہے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہمارے پاس گڈ گورننس نہیں ہے اور لوگ ہر حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ریاست کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ آئین بہت سے نقائص کا شکار ہے، لیکن میں یہ نہیں کہتا: اسے مکمل طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔ جمہوری ماحول میں بات چیت کرنی چاہیے کہ اصلاحات کیسے کی جائیں۔"

انہوں نے کہا کہ "حکومت کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس نے غلطیاں کیں اور ان غلطیوں کو دور کرے"۔

سابق ایرانی صدر کی طرف سے ایرانی رجیم پرتنقید اور عوام کے مسائل کی طرف توجہ دلانے پر بنیاد پرست حلقوں کی طرف سے سخت ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں