سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت کسی بھی مقامی شخص کا اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹ سے کسی غیر ملکی کو غیر مجاز اقتصادی سرگرمیوں کی سہولت دینے پر اکاؤنٹ ہولڈر کو پانچ سال قید اور50 ہزار سعودی ریال جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
پبلک پراسیکیوشن نے غیر سعودیوں کو مملکت میں مقامی شہریوں کے اکاؤنٹ کےسے اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں غیرملکیوں کو اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں یا لین دین کی سہولت دینے والے شخص کو سزا دی جائے گی۔
پبلک پراسیکیوشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی شخص کے لیے یہ ممنوع ہے کہ وہ کسی غیر سعودی کوغیر مجاز طریقے سے اپنے اکاؤنٹ سے مملکت میں اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت دے۔