مغرب کے ساتھ کشیدگی کے درمیان تصویر ساز مصنوعی سیارہ کامیابی سے مدار میں بھیج دیا ہے:

مغربی حکام نے نور-3 کے لانچ پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک تصویر کشی کرنے والا مصنوعی سیارہ کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا (آئی آر این اے) نے ملک کے وزیرِ مواصلات عیسیٰ زارع پور کے حوالے سے بتایا کہ نور-3 سیارے کو سطحِ زمین سے 450 کلومیٹر (280 میل) بلندی پر مدار میں چھوڑا گیا ہے۔

مغربی حکام کی جانب سے اس لانچ یا سیٹلائٹ کے مدار میں بھیجنے کے بارے میں فوری طور پر کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔ ایران کو حالیہ برسوں میں ناکام لانچز کا سلسلے کا تجربہ رہا ہے۔

زارع پور نے کہا کہ ایران کے نیم فوجی سپاہِ پاسدارانِ اسلامی انقلاب کی ایرو اسپیس شاخ نے سیٹلائٹ کیریئر چھوڑا جس نے اپنے سابقہ خفیہ لانچ پروگرام سے سیٹلائٹ لانچ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکام نے فوری طور پر لانچ کی تصاویر جاری نہیں کیں۔

امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ ایران کا سیٹلائٹ لانچ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے اور اس نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل بیلسٹک میزائلوں سے متعلق کوئی سرگرمی نہ کرے۔ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے 2022 کے خطرے کے جائزے کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی سیٹلائٹ لانچ وہیکل ایران کے لیے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے لیے "ٹائم لائن کو مختصر کر دیتی ہے" کیونکہ یہ "اسی سے مشابہہ ٹیکنالوجیز" استعمال کرتا ہے۔

ایران جو طویل عرصے سے کہتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کا خواہاں نہیں، قبل ازیں اس بات پر قائم تھا کہ اس کے سیٹلائٹ لانچ اور راکٹ تجربات میں کوئی فوجی جزو شامل نہ تھا۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے 2003 میں منظم فوجی جوہری پروگرام ترک کر دیا تھا۔ ایران اس بات پر قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں