"میرا آدھا خاندان مر چکا اور میں نے انہیں دیکھا تک نہیں"۔ یہ الفاظ سعودی عرب کی جیل میں قید ایک مقامی منشیات کے اسمگلر کے ہیں جسے اپنے کیے کے انجام پر افسوس ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے اس کی افسردگی پر مبنی گفتگو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شائع کیا ہے تاکہ منشیات کا دھندہ کرنے والوں کو سبق دینے کے ساتھ منشیات کے خلاف شہریوں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔
قیدی نے منشیات کی سمگلنگ پر افسوس کا اظہار کیا خاص طور پر اس لیے کہ وہ اپنے والد، بھائی اور بیٹے سمیت اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو دیکھنے سے بھی محروم ہے۔ وہ مرچکے مگر یہ انہیں دیکھ بھی نہیں سکا ہے۔
ویڈیو میں اس نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک شخص سے اس سے اپنی ماں کے ساتھ عمرہ کی ادائی کے لیے کچھ پیسے مانگے۔
اس نے اسے پیسے اور گاڑی بھی دینے کا وعدہ کیا۔ پھر کچھ دنوں بعد اس شخص نے اس سے رابطہ کیا اور اسے اطلاع دی کہ ایک گاڑی اس کے پاس آئے گی جس میں اس کا سامان ہے۔ وہ اسے میرے پاس لائے۔
نشبت مشاجرة بين بعض الشباب بمدينة #مطروح بسبب التنافس على إلتقاط صور مع شعراء ليبيين وتمكنت الأجهزة الأمنية من ضبط مرتكبى الواقعة#وزارة_الداخلية pic.twitter.com/Ab0Q103y5h
— وزارة الداخلية (@moiegy) October 2, 2023
اس نے مزید کہا کہ مجھے اس شخص سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں منشیات موجود ہیں لیکن میں لالچ کی اور اس کی بات مان لی۔
قیدی جس کی شناخت نہیں کی گئی نے کہا کہ "میں نے آزادی اور اپنے بچے کھو دیے۔ میرا بیٹا 22 سال کا ہے، میرے والد، میری بیوی اور میرا بھائی مجھ سے جدا ہوگئے۔ میرا آدھا خاندان فوت ہوچکا ہے۔ مجھے اس سارے کام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا‘‘۔
-
سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے 130 کلو قات سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی
سعودی پریس ایجنسی نے منگل کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے جازان کے ...
مشرق وسطی -
انقرہ میں دہشت گرد حملے کی مذمت، ہر قسم کے تشدد کو مسترد کرتے ہیں: سعودی عرب
سعودی عرب نے انقرہ میں دہشتگرد حملے کی مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ترکیہ کی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستانی کمپنیاں رجسٹر کرنے والا پہلا ملک بن گیا
دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، رجسٹریشن میں معاونت کے لیے سعودی ...
بين الاقوامى