یہ کوئی آپریشن نہیں، ہم حالت جنگ میں ہیں: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read


اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ حماس کی طرف سے ہفتہ کو علی الصبح اسرائیل پر ایک بڑا ملٹی فرنٹ حملہ شروع کرنے کے بعد نیتن یاہو نے پہلا بیان دیا اور ٹیلی ویژن پر خطاب کیا۔
نیتن یاہو نے ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا حکم دے دیا اور وعدہ کیا کہ اس حملہ پرحماس ایسی قیمت ادا کرے گی جس کا ابھی تک علم نہیں ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، یہ کوئی آپریشن نہیں ہے اور یہ کوئی چھوٹی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ حالت جنگ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل یہ جنگ جیت لے گا۔
وزیر اعظم نے فوج کو ان قصبوں کو کلیئر کرنے کا بھی حکم دے دیا جن میں حماس کے جنگجو گھس گئے تھے اور ان قصبوں میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ بندوق سے لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ ہفتہ سات اکتوبرکی صبح حماس نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ فائر کیے اور درجنوں جنگجوؤں کو ملک کی بھاری قلعہ بند سرحدوں پر بھیج دیا۔


اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج غزہ کی پٹی کے آس پاس کے علاقوں میں فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف سمندری اور زمینی راستے سے "پیراشوٹس" کے ذریعے دراندازی کے بعد "زمینی" لڑائیاں لڑ رہی ہیں۔
فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ ایک مشترکہ زمینی آپریشن تھا جو چھاتہ بردار دستوں نے سمندر اور زمین پر کیا تھا۔ ہم اس وقت غزہ کی پٹی کے ارد گرد مخصوص مقامات پر لڑ رہے ہیں۔ ہماری افواج اب زمین پر لڑ رہی ہیں۔
کونسل کے اعلان کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال مشرق میں اسرائیلی سرحدی علاقوں کے لیے علاقائی کونسل کے سربراہ فلسطینی علاقوں سے آنے والے مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مارے گئے ہیں۔
شاعر ہنغیف علاقائی کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ علاقائی کونسل کے سربراہ عوفیر لیپسٹائن بندوق برداروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مارے گئے ہیں۔

Advertisement
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں