عام شہریوں کا قتل دونوں اطراف سے قابل مذمت ہے: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک طرف غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری میں 450 بچوں سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد کو خون میں نہلا دیا گیا ہے تو دوسری جانب مغربی کنارے کے فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ہم دونوں اطراف سے کئے گئے عام شہریوں کے قتل اور بدسلوکی کی مذمت کرتے ہیں۔

اردن کے شاہ عبد اللہ دوم اور فلسطینی صدر محمود عباس
اردن کے شاہ عبد اللہ دوم اور فلسطینی صدر محمود عباس

صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق عباس نے عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم شہریوں کو مارنے یا دونوں طرف سے ان کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق طریقوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ اخلاقیات، مذہب اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

محمود عباس نے اپنے لوگوں کے خلاف جامع جارحیت کو فوری طور پر روکنے، طبی اور امدادی انسانی امداد کی فراہمی، پانی اور بجلی کی فراہمی اور غزہ کی پٹی میں فوری انسانی راہداری کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے پٹی کے باشندوں کے خلاف اجتماعی سزا کی پالیسی اپنانے سے خبردار کیا۔

شاہ عبد اللہ دوم نے کہا کہ اردن کشیدگی کو روکنے اور فلسطینیوں کے تحفظ دینے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی پر بات چیت کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

ہفتہ 7 اکتوبر کو حماس نے غیر یقینی طور پر اسرائیل پر بڑا حملہ کردیا تھا اور دونوں طرف سے جنگ شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں چھ روز کے دوران ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں