فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کو چھ روز سے پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملی: اقوام متحدہ کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیل کی کڑی ناکہ بندی کے نتیجے میں انسانی بحران المیے میں بدل رہا ہے۔

گذشتہ چھ روز سے غزہ کی پٹی کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی کی ابتر ہوتی انسانی صورت حال پر متحارب فریقین کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سرکاری ترجمان سٹیفن دوگریک نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی پٹی کو گذشتہ چھ دنوں کے دوران پانی کا "ایک قطرہ پانی" نہیں ملا ہے۔

"پانی کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے "

یو این عہدیدار نے جمعہ کو ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ "میں نے حال ہی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘کے اپنے ساتھی سے فون پر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ چھ دنوں سے پانی کی ایک بوند تک نہیں ملی ہے۔ پانی سمیت ضروری اشیاء کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سیکرٹری جنرل اس وقت غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کے لیے اسرائیلی حکام سے اجازت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں"۔

"ہم مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ "ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہم مصر کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں‘‘۔

"48 گھنٹوں میں بڑے پیمانے پر تباہی "

قبل ازیں جمعے کے روز روس میں فلسطینی سفیر عبدالحفیظ نوفل نے کہا تھا کہ غزہ میں تمام رسد ختم ہونے کے بعد فلسطین شہری آبادی کو مزید دو دن تک انسانی امداد فراہم کر سکے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے سرکاری ترجمان طارق یاسریوک نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پٹی میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام انتہائی نازک حالت میں ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر مواصلات نے انکشاف کیا کہ غزہ میں تمام انٹرنیٹ خدمات ہفتے کے روز سے معطل کر دی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں