حماس کے پاس 155 یرغمالی موجود، دو محاذوں پر بھی جنگ کیلئے تیار ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ حماس نے اسرائیل پر اپنے اچانک حملے کے بعد سے اسرائیل کے 155 قیدیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یہ نئے اعداد و شمار ہیں۔ اس سے قبل صہیونی فوج نے 126 یرغمالیوں کی تصدیق کی تھی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زبردست کوششیں کر رہے ہیں۔ 155 یرغمالیوں کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اپنی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک کم از کم 289 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔

ہگاری نے زور دیا کہ اسرائیل دو یا زیادہ محاذوں پر جنگ چھیڑنے کے لیے تیار ہے تاہم اس کی توجہ ایک مقصد پر ہے۔ یہ مقصد حماس کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنانی سرحد پر کشیدگی کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ہگاری نے مزید کہا کہ 6 لاکھ سے زیادہ غزہ کے افراد نے پٹی کے جنوب کی طرف رخ کیا ہے۔ یہ نقل مکانی اسرائیل کی جانب سے متوقع زمینی حملے سے قبل مکینوں کو غزہ شہر خالی کرنے کے الٹی میٹم کے بعد کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آنے والے بہت سے اہداف ہیں۔ جب بھی ضرورت پڑی ہم غزہ میں سخت حملوں کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ ان حملوں کا مقصد عسکریت پسندوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد اور بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کی کم سے کم تعداد کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت میں اہم شراکت دار سموٹریچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمیں ایمانداری اور دردمندی کے ساتھ سر جھکا کر تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم، ریاستی قیادت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اپنے شہریوں کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں