فلسطین اسرائیل تنازع

بیٹے کے چند ہفتے بعد ممتاز فلسطینی عالم دین بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں ممتاز فلسطینی عالم دین اور مبلغ ڈاکٹر وائل محی الدین الزرد 13 اکتوبر کو غزہ شہر میں اسرائیلی طیاروں کی طرف سے ان کے گھر پر کیے گئے فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر محیی الدین الزرد بمباری میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیے گئے تھے جہاں آج سوموار کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مبلغ الزرد 24 دسمبر 1972ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی عمر 51 سال تھی۔ وہ شادی شدہ تھے۔ ان کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ اور آٹھ بجے شامل ہیں۔

مبلغ الزرد نے 2001 میں حدیث سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور پھر قاہرہ کی عین شمس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی۔

الزرد یونیورسٹی کالج آف اپلائیڈ سائنسز میں یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، اور اس سے قبل القدس اوپن یونیورسٹی اور اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں کام کر چکے ہیں۔

مبلغ الزرد غزہ شہر کی جامع العمری مسجد اور الدراج کے پڑوس میں المحطہ مسجد کے امام اور خطیب تھے۔

ڈاکٹر الزرد نے فیس بک پر اپنے بیٹے براء کی شہادت کے حوالے سے ایک دلسوز پیغام شائع کیا تھا۔

ممتاز فلسطینی عالم دین اور مبلغ ڈاکٹر وائل محی الدین الزرد

انھوں نے کہا کہ "خدا کی قسم ہمیں اپنے بیٹے براء کی شہادت پر کوئی افسوس نہیں۔ خدا کی قسم ہم اس کے بعد سفر بھی [شہادت کا] جاری رکھیں گے۔ حق، طاقت اور آزادی کے راستے پر چلتے رہیں، جب تک کہ ہم وطن کی دولت کو جابر قابضین کی بے حرمتی سے آزاد نہ کر لیں ہم قربانیاں دیتے رہیں گے۔ ہم شہداء کے نقش قدم پر چلیں گے اور ان کے قربانیوں رائےگاں نہیں جانیں دیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں