غزہ میں فلسطینی عوام کو نسل کشی اور ایک نئے نکبہ کا سامنا ہے:فلسطینی وزیراعظم
فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے پیر کے روزکہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک کھلم کھلا نسل کشی اور فلسطینیوں کے خلاف ایک نئی نکبہ ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائیاں بند کرائے۔
تازہ ترین پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم نے اپنے بیانات میں زور دیا کہ "غزہ پر اسرائیلی محاصرے کا مقصد فلسطینیوں کو قتل اور بڑے پیمانے پر بے گھر کرنا ہے۔"
پیر کو اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری میں ہلاک ہونے والے حماس کے 6 سیاسی اور عسکری رہ نماؤں کی تصاویر اور نام شائع کیے تھے۔
اشتیہ نے کہا کہ "مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کی جارحیت جاری ہے"۔
اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 330 گرفتاریوں کے علاوہ مغربی کنارے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 55 تک پہنچ گئی۔
فلسطینی وزیراعظم نے اشارہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی میں طبی امداد پہنچانے کے لیے بین الاقوامی برادری سے رابطہ کر رہی ہے۔
تاہم پیر کے روز جنوبی غزہ میں غیر ملکیوں کو غزہ سے نکالنے اور امداد پہنچانے کے لیے 5 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد رفح کراسنگ کو کھولنے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں ہیں۔
تاہم اسرائیل اور حماس دونوں نے جنگ بندی کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔