کئی فٹ بال کھلاڑی اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ پر بات کرنے پر تنقید کی زد میں آ چکے ہیں جن میں سے بعض کو معطلی کا سامنا ہے اور دیگر کو تنازعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پوسٹس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈچ فٹبالر انور ال غازی کو 17 اکتوبر کو ان کے جرمن کلب مینز 05 نے جنگ کے بارے میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر معطل کر دیا جسے بنڈس لیگا کلب نے "ناقابلِ قبول" کہا تھا۔
مینز نے منگل کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا۔ "ال غازی نے شرقِ اوسط میں جاری تنازعہ پر ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جسے کلب کی طرف سے ناقابل قبول سمجھا گیا تھا۔"
"مینز 05 اس حقیقت کا [احترام کرتا ہے] کہ شرقِ اوسط میں کئی عشروں سے جاری پیچیدہ تنازعات پر مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں۔ تاہم کلب زیرِ بحث سوشل میڈیا پوسٹ کے مواد سے [خود کو] دور کر رہا ہے کیونکہ یہ کلب کی اقدار کے مطابق نہیں ہے۔"
Mainz 05 suspend Anwar El Ghazi. pic.twitter.com/44m5HjtBOn
— Mainz 05 English (@Mainz05en) October 17, 2023
کلب نے کہا کہ بین الاقوامی ڈچ کھلاڑی ال غازی نے اتوار کی شام ایک "اس وقت سے حذف شدہ" سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ تبصرے کیے اور مزید کہا کہ "یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کلب اور کھلاڑی نے گہرائی سے بحث کی تھی۔"
کلب نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ الغازی نے حذف شدہ پوسٹ میں کیا کہا تھا۔
فرانس نے یوسف اتل کو تا حکمِ ثانی معطل کر دیا
فرانس کے نائس فٹ بال کلب نے الجزائر کے فٹبالر یوسف اتل کو حماس-اسرائیل تنازعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر معطل کر دیا ہے جسے وہ یہود دشمنی پر مبنی پیغام سمجھتا ہے۔
فرانسیسی استغاثہ نے مقامی سیاست دانوں کی طرف سے دائر کردہ شکایات کے بعد "دہشت گردی کو تعظیم دینے" کے شبہے میں فٹبالر سے تفتیش شروع کی تو اس کے دو دن بعد اتل کو معطلی مبینہ طور پر معطل کر دیا گیا۔
#OGCNice press release concerning Youcef Atal
— OGC Nice 🇬🇧🇺🇸 (@ogcnice_eng) October 18, 2023
➡️ https://t.co/c6E1yN2Zhv pic.twitter.com/3CFkBTTaJk
کلب نے بدھ کو ایک بیان میں کہا، "پوسٹ کیے گئے پیغام کی نوعیت اور اس کی سنجیدگی کے پیشِ نظر کلب نے کھلاڑی کے خلاف پہلی تادیبی پابندیاں فوری طور پر لگانے کا فیصلہ کیا، اس سے پہلے کہ ان کا فیصلہ کھیل اور عدالتی حکام کر سکیں۔ اس طرح کلب نے تا حکمِ ثانی یوسف اتل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"
مبینہ طور پر یہودی لوگوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کرنے والے ایک فلسطینی مبلغ کی ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے پر اتل کو ہفتے کے روز سے مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
کلب نے کہا کہ فٹبالر نے تب سے پوسٹ کو حذف کر دیا ہے اور عوامی اور تحریری معافی نامہ جاری کر دیا ہے۔
بینزیما کو غزہ کے لیے اظہارِ یکجہتی پر ردِعمل کا سامنا
فرانسیسی فٹ بال اسٹار کریم بینزیما جو اب سعودی کلب الاتحاد کے لیے کھیلتے ہیں، کو بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں غزہ کے لوگوں کی حمایت کے اظہار کے بعد شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔
بینزیما نے اتوار کے روز ایکس پر لکھا: "ہماری تمام دعائیں غزہ کے باشندوں کے لیے جو ایک بار پھر ان غیر منصفانہ بمباری کا شکار ہیں جن میں خواتین یا بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔"
متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے وزیرِ داخلہ جیرالڈ درمانین کی جانب سے بینزیما پر اخوان المسلمون سے روابط ہونے کا الزام عائد کرنے کے بعد تنقید میں مزید اضافہ ہوا۔ اسے فرانس ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔
سی نیوز ٹی وی چینل کے ساتھ ایک نشرکردہ انٹرویو میں درمانین نے کہا: "ہم نے 1,100 اسلام پرست اداروں کو بند کر دیا ہے۔ اور حالیہ ہفتوں میں میں نے بالخصوص دلچسپی لی ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ مسٹر بینزیما کا تعلق بدنامِ زمانہ اخوان المسلمون سے ہے۔"
درمانین کے تبصروں کے بعد فرانسیسی سینیٹر ویلری بوئیر نے مطالبہ کیا کہ 2022 کے بیلن ڈی اور فاتح سے ان کی فرانسیسی شہریت اور بیلن ڈی اور ٹائٹل چھین لیا جائے – جو سال کے بہترین فٹ بال کھلاڑی کو دیا جانے والا سالانہ ایوارڈ ہے۔
بوئیر نے بدھ کے روز ایکس پر پوسٹ کیا۔ "اگر کریم بینزیما کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے تو ہمیں کم از کم ان سے بیلن ڈی اور (علامتی پابندی) واپس لے لینی چاہیے بلکہ اس کے علاوہ اس کی فرانسیسی شہریت بھی۔ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کرنا جو ہمارے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں ملک سے غداری کے مترادف ہو گا۔"
شائقین کی دوہرے معیار پر تنقید
دریں اثناء فٹ بال کے شائقین لندن کے کلب ٹوٹنہم ہاٹسپور سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اسرائیلی ونگر منور سلیمان کے خلاف تنازعہ پر پوسٹ کرنے پر کارروائی کرے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں الاہلی بیپٹسٹ ہسپتال پر بمباری جس میں کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے، کے چند گھنٹے بعد سلیمان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر فلسطینیوں پر "اپنے ہی لوگوں کو مارنے اور اسرائیل کو الزام دینے" کا الزام لگاتے ہوئے پوسٹ کی۔
Can Tottenham FC suspend Manor Solomon, after this post, as Nice and Mainz did with Youcef Atal and Anwar El Ghazi?
— Hessien Emish (@hessienemish) October 18, 2023
Of course not. This apply only to those who disagree with them, to those who support the truth and refuse to kill innocent people #Gazagenocide pic.twitter.com/iw139bafoV
شائقین فٹ بال کلبوں کے بعض کھلاڑیوں کے ساتھ منتخب رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ ان کا مؤقف سیاست کو کھیل سے دور رکھنے کا ہے۔
ایکس پر ایک صارف جس کی شناخت حیسین ایمش کے نام سے ہوئی ہے، نے لکھا۔ "کیا ٹوٹنہم ایف سی منور سلیمان کو اس پوسٹ کے بعد معطل کر سکتا ہے جیسا کہ نائس اور مینز نے یوسف اور انور الغازی کو کیا ہے۔"
کلب نے تاحال سلیمان کی پوسٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔